اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کا اِسلامی تصور — Page 58
طاقیتں اپنے آپ کو ظاہر کر دیتی ہیں۔اور ایک نئی چیز بننے لگ جاتی ہے۔خالق کے معنی وہ بھی ہیں جو خان كُل شي میں بیان ہو چکے ہیں لیکن ان کے علاوہ خالق کے ایک اور منے بھی ہیں۔اور وہ تجویز کرنے والے کے ہیں۔پس خالق کے معنی یہ ہیں کہ مختلف چیزوں کو اپنی اپنی جگہ پر رکھا۔یہ بھی خداتعالی کا ہی کام ہے۔اس دنیا کو ایک خاص نظام کے مابخت خداتعالئے نے رکھا ہے اور اس پر خالق کا لفظ دلالت کرتا ہے۔باری کا لفظ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ مخلوق کے مختلف ظہور شروع کرتا ہے اور پھر وہ ایک ایسا قانون مقریہ کر دیتا ہے کہ وہ چیز اپنی نسل کی تکرار کرتی چلی جاتی ہے۔اور اس پر خدا تعالیٰ کا نام المُعِيْدُ دلالت کرتا ہے۔الْمُصَورُ کا لفظ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے ہر چیز کو ایک خاص شکل دی ہے جو اس کے مناسب حال ہے۔صرف کسی چیز کے اندر کسی خاصیت کا پیدا کر دینا ہی کافی نہیں ہوتا بلکہ اُسے مناسب حال شکل دینا بھی ضروری ہوتا ہے اس کے بغیر کام نہیں چل سکتا۔اسی طرح کسی چیز کا محض پیدا ہو جانا کافی نہیں بلکہ اس کا ایسی شکل میں پیدا ہونا بھی کہ وہ اپنے کام کو سرانجام دے سکے ضروری ہوتا ہے۔پس اس صفت کے اظہار کے لئے خدا تعالیٰ کا ایک نام المصور ہے۔السراب کی صفت