اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کا اِسلامی تصور — Page 50
اور خاص عنایت کے اندر اس کو لے لیتا ہے اور ابرار کی طرح اس کو غیروں کے تعلقات سے چھڑا دیتا ہے۔تو ایسا بندہ کسی کو ایسا نہیں پاتا کہ اپنی عظمت یا وجاہت یا خوبی کے ساتھ اس کے دل کو پکڑ لے کیونکہ اسی پر ثابت ہو جاتا ہے کہ تمام عظمت اور وجاہت اور خوبی خُدا میں ہی ہے پس کسی کی عظمت اور جلال اور قدرت اس کو تعجب میں نہیں ڈالتی اور نہ اپنی طرف جھکا سکتی ہے سو اس کو دوسروں پر صرف رحم باقی رہ جاتا ہے۔خواہ بادشاہ ہوں یا شہنشاہ ہوں کیونکہ اس کو ان چیزوں کی طمع باقی نہیں رہتی جو اُن کے ہاتھ میں ہیں جنسی اس حقیقی شہنشاہ کے دربار میں یار پا یا جب کسی ہا تھے میں ملکوت السموات والارض ہے۔پھر فانی اور چھوٹی بادث ہی کی عظمت اُس کے دل میں کیونکر بیٹھ سکے۔میں جو اُس ملیک مقتدر کو پہچانتا ہوں تو اب میری روح اُس کو چھوڑ کر کہاں اور کدھر جائے۔یہ روح تو ہر وقت یہی جوش مار رہی ہے کہ اسے شاہ ذوالجلان ابدی سلطنت کے مالک۔سب ملک اور ملکوت تیرے لئے ہی مسلم ہے۔تیرے سو اس عاجز بندے ہیں بلکہ کچھ بھی نہیں سے آنکس که بورس درشهای را چه کند۔چون بنده شناختت برای عز وجلال با فستو تو فر خسروان را چه کند بعد از تو جلال دیگران را چه کند