اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کا اِسلامی تصور

by Other Authors

Page 45 of 121

اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کا اِسلامی تصور — Page 45

۴۵ کسی شخص کو جس قدر اللہ تعالیٰ کی عظمت و جبروت سے بھری ہوئی صفات کا عرفان حاصل ہو اسی قدر محبت الہی کی مقنا طیسی کشش سے اسے فیضان عطا ہوتا ہے۔حضرت مولانا روم نے اپنی مشغوی کے دفتر دوم میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے عہد کے ایک گڈریا کی حکایت بھی ہے کہ وہ سیر راہ یہ مناجات کر رہا تھا کہ اسے خدا تو کہاں ہے کہ میں تیرا خادم ہو جاؤں۔تیری جوتی سیا کروں۔تیرے سر میں کنگھی کیا کروں۔اسے میرے خدا ! میری جان تجھ پر خدا ہو اور میرے تمام فرزند اور گھر بار بھی۔تو کہاں ہے ؟ میں تیرے کپڑے سیوں۔تیری جوئیں ماروں۔تیرے ساتھ دودھ لاؤں۔تو بیمار ہو تو تیری عیادت کروں۔تیرے پیارے ہاتھ چوموں اور تیرے نرم و نازک پاؤں ملوں۔جب سونے کا وقت آئے تو تیرے بستر کو صاف کروں اگر مجھے تیر گھر نظر آئے تو ہمیشہ تیرے لئے صبح و شام دونوں وقت گھی و دودھ حاضر کیا کروں۔ساتھ ہی پیر اور روغنی روٹیاں اور مختلف قسم کی شراب اور طرح طرح کی عمدہ مری بھی مہیا کروں اور صبح و شام تیرے سامنے حاضر ہوں۔میرا کام ان اشیاء کو حاضر کرنا اور تیرا کام کھانا ہو۔اسے ذات پاک میری تمام بکریاں تجھ پر فدا ہوں۔دور موسوی کے اس طالب حق کی بنا جا سکے بعد اب انحضرت صلی اللہ علیہ لم کے فرزند جلیل اور رب العزت کے عاشق صادق حضرت اقدس علیہ الف الف تحیر کے دعائیہ اشعار پڑھیے ! آپ اللہ جل شانہ کے حضور عرض کرتے ہیں سے مجھے اس یار سے پیوند جاں ہے وہی جنت وہی دار الاماں ہے