اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کا اِسلامی تصور

by Other Authors

Page 36 of 121

اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کا اِسلامی تصور — Page 36

یچھے مذہب کا خُدا ای مطابق عقل اور نور فطرت چاہیئے کہ جس کا وجود ان لوگوں پر بھی محبت ہو سکے جو عقل تو رکھتے ہیں مگر ان کو کتاب نہیں ملی۔غرض وہ خُدا ایسا ہونا چاہیئے جس میں کسی زیرہ دستی اور بناوٹ کی بو نہ پائی جائے۔سو یاد رہے کہ یہ کمال اس خُدا میں ہے جو قرآن شریف نے پیش کیا ہے اور تمام دنیا کے مذہب والوں نے یا تو اصل خدا کو بالکل چھوڑ دیا ہے جیسا کہ عیسائی اور یا نا واجب صفات اور اخلاق ذمیمہ اسی کی طرف منسوب کہ ادئے ہیں جیسا کہ یہودی اور یا واجب صفات سے اس کو علیحدہ کر دیا ہے جیسا کہ مشرکین اور آریہ مگر اسلام کا خدا وہی سچا خدا ہے جو آئینہ قانون قدرت اور صحیفۂ فطرت سے نظر آرہا ہے۔اسلام نے کوئی نیا نھدا پیش نہیں کیا بلکہ وہی خدا پیش کیا ہے جو انسان کا نور قلب اور انسان کا کا مشمس اور زمین و آسمان پیش کر رہا ہے " ہے۔ہم دعوی سے کہتے ہیں کہ جو شخص اللہ تعالٰی کی بہتی اور وجود پر ستستلم اٹھائیگا۔اسکو آخر کا راسی خدا کی طرف آنا پڑیگا جو اسلام نے پیش کیا ہے کیونکہ صحیفۂ فطرت کے ایک ایک پتے میں اس کا پتہ ملتا ہے اور بالطبع انسان اُسی خدا کا نقش اپنے اندر رکھتا ہے " ۵۲ ه جلد ها تبلیغ رسالت جلد ششم مات سے ملفوظات جلد اول ملت به ص