اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کا اِسلامی تصور

by Other Authors

Page 35 of 121

اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کا اِسلامی تصور — Page 35

۳۵ وہ حضرت اقدس بانی سلسلہ احمدیہ کے الفاظ میں یہ ہے کہ : ا۔" حقیقی توحید جس کا اقرارہ خُدا ہم سے چاہتا ہے اور جب کے اقرائد سے نجات وابستہ ہے یہ ہے کہ خدا تعالٰی کو اپنی ذات میں ہر ایک شریک سے خواہ بت ہو خواہ انسان ہو خواہ سورج ہو یا چاند ہو یا اپنا نفس یا اپنی تدبیر اور مکر و فریب ہو مننہ سمجھنا اور اس کے مقابل پیر کوئی قادر تجویز نہ کرنا۔کوئی رازق نہ ماننا۔کوئی معتر اور بذل خیال نہ کرنا۔کوئی ناصر اور مددگارہ قرار نہ دینا اور دوسرے یہ کہ اپنی محبت اُسی سے خاص کرنا۔اپنی عبادت اسی سے خاص کرنا۔اپنا تذلل اسی سے خاص کرنا۔اپنی امیدیں اُسی سے خاص کرنا۔اپنا خوف اُسی سے خاص کرنا۔پس کوئی تو حید بغیر ان تین قسم کی تخصیص کے کامل نہیں ہو سکتی۔اول ذات کے لحاظ سے توحید یعنی یہ کہ اسکی وجود کے مقابل پر تمام موجودات کو مسلم کی طرح سمجھنا اور تمام کو ہانکتہ اعذات اور باطلتہ الحقیقت خیال کرنا۔دوم صفات کے لحاظ سے توحید یعنی یہ کہ ربوبیت اور الوہیت کی صفات بجز ذات باری کسی میں فراہ نہ دینا اور جو بیک پر رب الانواع یا فیض رساں نظر آتے ہیں۔یہ اُسی کے ہاتھ کا ایک نظام یقین کرنا۔تلبیس اپنی محبت اور صدق اور صفا کے لحاظ سے توحید بینی محبت وغیرہ شعار عبودیت میں دوسرے کو خداتعالی کا شریک نہ گردانا اور اسی میں کھوئے جانا " لے : سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب" ص ۲۴ :