اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کا اِسلامی تصور — Page 78
LA وَاَدْعُوكَ البر الرَّحِيمَ وَادْعُوكَ بِأَسْمَائِكَ الحسنى كُلِّهَا مَا عَلِمْتُ مِنْهَا وَ مَا لَمْ أَعْلَم ان تَغْفِرْلَى وَتَرْحَمْنِي له خُداوندا ئیں تجھے اللہ الرحمن - البر الرحیم اور ان تمام اسماء حسنیٰ سے پکارتی ہوں جن کو میں جانتی ہوں اور ان سے بھی جن کو نہیں جانتی - تو مجھے بخش دے اور مجھ پر رحم فرما۔یہ دُعاسُن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسکراتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ۔عائشہ خدا کا وہ خاص نام تمہاری اس دُعا کے ناموں میں موجود ہے۔احادیث نبوی سے ننانو سے ناموں کے علاوہ جن اسمای الہی کا پتہ چلت ہے۔ان میں سے بعض یہ ہیں :- ابد - البرهان - الدهر - القسط - المولى۔الخليفه - الرقيق - الفاتن - الجميل - الدائم۔الناظر القديم - الوتر المقوم - الجواد۔له آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نہ ند جلیل سید نا حضرت اقدس کو الہا ما للہ تعالیٰ کے دو نام تبلائے گئے۔یعنی عالج اور الصاعقة (عاج یعنی مجیب اور پرورش کرنے دال۔تذکرہ طبع سوم ما ، حا ) - مشة : - الدعاء المستجاب من 24 واحمد عبد الجواد ) - ته : " المعجم المفرس " من زیر لفظ الله انتخاب حدیث از محمد جعفر شاہ پھلواری - "المسند احمد بن حنبل" الجزء الأول منه ( شائع کرده ادارۃ المصنفین رتبوه )۔