اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کا اِسلامی تصور — Page 57
خالق مانتے ہیں مگر ہمارے نزدیک خالق کے معنے یہ ہیں کہ وہ ان چیزوں کو جوڑ جاڑ کر ایک نئی شکل دے دیتا ہے۔ان لوگوں کو اس تاویل کی وجہ سے قرآن کریم کا حقیقی منشاء واضح اور روشن طور پر ثابت نہ ہو سکتا۔پس خالق کل شیء کی صفت نے محض خلق کی صفت سے ایک زائد مضمون بیان کیا ہے۔بدیع کا مفہوم یہ ہے کہ نظام عالم کا ڈیزائن اور نقشہ خدا تعالیٰ نے بنایا ہے۔گویا یہ اتفاقی نہیں یا موجودات میں سے کسی کی نقل نہیں۔قطر کے معنی ہوتے ہیں کسی چیز کو پھاڑ کر اس میں سے مادہ کو نکالنا۔پس فاطر کی صفت سے اس طرف اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو مادہ پیدا کیا ہے۔اس کے اندرا نے مخفی ارتقاء کی طاقتیں رکھیں اور اپنے وقت پر وہ پر دے جو ان طاقتوں کو دبائے ہوئے تھے اُن کو اس نے پھاڑ دیا جیسے بیج کے اندر درخت یا پودہ بننے کی خاصیت ہوتی ہے۔مگر وہ ایک خاص حالات کا منتظر رہتا ہے اس وقت اور اس موسم میں وہ اپنے آپ کو ظاہر کرتا ہے۔غرض فاطر کے لفظ نے بتادیا کہ خدا تعالٰی نے سب کچھ یکدم نہیں کر دیا۔بلکہ دنیا کو ایک قانون کے مطابق پیدا کیا ہے۔ہر ایک درجہ کے متعلق ایک قانون کام کر رہا ہے۔ایک اندرونی تیاری دنیا میں ہوتی رہتی ہے۔اور ایک خاص وقت پر جا کر بعض مخفی