اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کا اِسلامی تصور

by Other Authors

Page 21 of 121

اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کا اِسلامی تصور — Page 21

explosion in a printing factory۔" (Quoted in Cincinnati Times Stat); ✓ یعنی یہ خیال که زندگی کا آغاز محض کسی اتفاقی حادثہ کے نتیجہ میں ہوا ہے بالکل ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص یہ دعوی کرے کہ لغت کی ایک مکمل کتاب کسی چھاپہ خانہ کے اتفاقی دھماکے کے نتیجہ میں خود بخود چھپ گئی تھی۔اللہ اسم اعظم قرآن عظیم کا لفظ لفظ چو نکہ کلام اللہ ہے، اس لئے جس طرح صحیفہ نظرت کے پتہ پتہ سے خدا کا ثبوت ملتا ہے اسی طرح اس پاک اور رہبانی کتاب کی ہر آیت بسم اللہ کی ب سے لے کر والناس کی س تک خدا تعالیٰ کی ذات وصفات کے لئے آئینہ حق نما ہے اور اسی میں زبر دست اقتداری اور آفاقی اور انفسی نشانوں کے ساتھ خدا تعالیٰ کی ذات کی واضح اور نمایاں تصویر ملتی ہے اور اگر کوئی شخص معرفت کی آنکھ اور ایمان کے نور ہے اس کو نظر غائی مشاہدہ کرے تو اس کی روح پکار اٹھے گی کہ اس کی ہر آیت میں خدائے قادر وتوانا کا ذکر موجود ہے اور یہ کمال السلام کے سواکسی اور مذہب کی الہامی کتاب کو حاصل نہیں۔اسلام جس زندہ اور از لی اور ابدی اور کامل خُدا کو پیش کرتا ہے۔اسکا ذاتی اور مخصوص نام اللہ ہے۔جو اسم اعظم کہلاتا ہے جو قرآن مجید میں ، ۴۶۹ بار “Reader's Digest” May 1956 Page 87) -