اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کا اِسلامی تصور — Page 14
۱۴ جو حقیقی خُدا اور پیدا کنندہ ہے۔پس چاہیئے کہ وہ ایسے نیک عمل کرے جن میں کسی قسم کا فساد نہ ہو یعنی عمل اس کے ن لوگوں کو دکھلانے کے لئے ہوں۔نہ ان کی وجہ سے دل میں تکبیر پیدا ہو کر میں ایسا ہوں اور ایسائیوں اور نہ وہ عمل ناقص اور نا تمام ہوں نہ ان میں کوئی ایسی بدبو ہو جو محبت ذاتی کے بر خلاف ہو بلکہ چاہیے کہ صدق اور وفاداری سے بھرے ہوئے ہوں اور ساتھ ہی اس کے یہ بھی چاہئیے کہ ہر ایک قسم کے شرک سے پر ہیز ہونہ سورج ، نہ چاند ، نہ آسمان کے ستارے ، نہ ہوا ، نہ آگ، نہ پانی نہ کوئی اور زمین کی چیز معبود ٹھہرائی جائے اور نہ دنیا کے اسباب کو ایسی عربت دی جائے اور الیسا ان پر بھر دسہ کیا جائے کہ گویا وہ خدا کے شریک ہیں اور نہ اپنی ہمت اور کوشش کو کچھ چیز سمجھ جائے کہ یہ بھی شرک کی قسموں میں سے ایک قسم ہے بلکہ سب کچھ کر کے یہ مجھا جائے کہ ہم نے کچھ نہیں کیا اور نہ اپنے علم پر کوئی غرور کیا جائے اور نہ اپنے عمل پر کوئی ناز بلکہ اپنے تئیں فی الحقیقت جاہل سمجھیں اور کابل سمجھیں اور خدا تعالیٰ کے آستانہ پر ہر ایک وقت روح گری رہے اور دعاؤں کے ساتھ اس کے فیض کو اپنی طرف کھینچا جائے اور اس شخص کی طرح ہو جائیں کہ جو سخت پیاسا اور بے دست و پا بھی ہے اور اس کے سامنے ایک چشمہ نمودار ہوا ہے نہایت صافی اور شیریں۔پس انسی افتان