اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کا اِسلامی تصور — Page 103
اپنے بندے پر ظاہر کرنا چاہتا ہے تو کبھی نرمی سے، کبھی سختی سے بعض کلمات زبان پر کچھ تھوڑی غنودگی کی حالت میں جاری کر دیتا ہے اور جو کلمات سختی اور گرانی سے جاری ہوتے ہیں وہ ایسی پر شدت اور عنیف صورت میں زبان پر وارد ہوتے ہیں۔جیسے گڑے یعنی اولے بیک بارگی ایک سخت زمین پر گرتے ہیں یا جیسے تیز اور پیچ زور رفتار میں گھوڑے کا کم زمین پر پڑتا ہے۔اور اس الہام میں ایک عجیب سرعت اور شدت اور ہیبت ہوتی ہے جسے تمام بدن متاثر ہو جاتا ہے۔اور زبان ایسی تیزی اور بار رعب آواز میں خود بخود دوڑتی جاتی ہے کہ گویا وہ اپنی زبان ہی نہیں اور ساتھ اسکی جو ایک تھوڑی سی غنودگی اور ربودگی ہوتی ہے۔وہ الہام کے تمام ہونے کے بعد فی الفور دُور ہو جاتی ہے اور جب تک کلمات الہام تمام نہ ہوں تب تک انسان ایک میت کی طرح بے حس و حرکت پڑا ہوتا ہے۔اے صورت دوقم الہام کی جس کا ئیں با عتبار کثرت عجائبات کے کامل الہام نام رکھتا ہوں ، یہ ہے کہ جب خدا تعالی بندہ کو کسی امر غیبی پہ بعدہ دعا اس بندہ کے یا خود بخود مطلع کرنا چاہتا ہے تو ایک دفعہ ایک بے ہوشی اور ربودگی اس پر طاری کر دیا ہے جسے وہ بالکل اپنی بہتی سے کھویا جاتا ہے اور ایسا اس ه: ابراہین احمدیہ جلد سوم مشت ۲۳- ۲۳۹ حاشیه در حاشیه را (طبع بول)