اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کا اِسلامی تصور — Page 63
استی آنکھیں عطا کی ہیں۔اس کام میں اس کا اصل کمال یہ نہیں ہے کہ اس نے یہ آنکھیں بنائی ہیں بلکہ کمال یہ ہے کہ اس نے ذرات جسم میں پہلے سے یہ پوشیدہ طاقتیں پیدا کر رکھی تھیں جن میں بینائی کا نور ہو سکتے۔پس اگر وہ طاقتیں خود بخود ہیں تو پھر خدا کچھ بھی چیز نہیں کیونکہ بقول شخصے کہ گھی سنوار سے سالن بڑی ہو کا نام اُنسی بنیائی کو وہ طاقتیں پیدا کرتی ہیں۔خُدا کو اس میں کچھ دخل نہیں اور اگر ذرات عالم میں وہ طاقتیں نہ ہوئیں تو خدائی ہے کا بہ رہ جاتی۔پس ظاہر ہے کہ خدائی کا تمام مدار اس پر ہے کہ اس تھی روحوں اور ذرات عالم کی تمام قوتیں خود پیدا کی ہیں اور کرتا ہے اور خود ان میں طرح طرح کے خواص رکھتے ہیں اور رکھتا ہے۔پس وہی خواص جوڑنے کے وقت اپنا کرشمہ دکھلاتے ہیں اور اسی وجہ سے خُدا کے ساتھ کوئی موجد برابر نہیں ہو سکتا کیونکہ گو کوئی شخص ریل کا موجد ہویا تارہ کا یا فوٹو گران کا یا پریس کا یا کسی اور صنعت کا اس کو اقرار کرنا پڑتا ہے کہ وہ ان قوتوں کا موجد نہیں جن قوتوں کے استعمال سے وہ کسی صنعت کو تیارہ کرتا ہے بلکہ یہ تمام موجد بنی بنائی قوتوں سے کام لیتے ہیں جیسا کہ انجن چلانے میں بھاپ کی طاقتوں سے کام لیا جاتا ہے۔پس فرق یہی ہے کہ خدا نے عنصر وغیرہ میں یہ طاقیقی خود پیدا کی ہیں۔مگر یہ لوگ خود