اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کا اِسلامی تصور

by Other Authors

Page 62 of 121

اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کا اِسلامی تصور — Page 62

۶۲ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ حضرت رب العالمیہ ہر چیز پر محیط ہو رہا ہے اور کوئی اسکی فیض سے خالی نہیں وہی تمام فیوض کا میدو ہے اور تمام انوار کا علت العلل اور تمام رحمتوں کا سر چشمہ ہے۔اسی کی ہستی حقیقی، تمام عالم کی قیوم اور تمام زیر وزیر کی پناہ ہے۔وہی ہے جنسی ہر ایک چیز کو ظلمت خانہ عدم سے باہر نکالا - اور خلعت وجود بخشا - بجز اسکی کوئی ایسا وجود نہیں ہے کہ جو فی حد ذاتہ واجب اور قدیم ہو یا اسے مستفیض نہ ہو بلکہ خاک اور افلاک اور انسان اور حیوان اور حجراد رشجر اور روح اور جسم سب اسی کے فیضان طه سے وجود پذیر ہیں " اے صانع حقیقی اور موجد میں واضح فرق بعض عناصر ایجادات کو دیکھ کر اس غلط فہمی کا شکار ہو گئے تھے کہ صانع حقیقی اور عہد حاضر کے موجد دونوں ہی ایک جیسی قدرت رکھتے ہیں حضرت اقدس نے اس مغالطہ کا پردہ چاک کرتے ہوئے فرمایا کہ :- " اصل بات یہ ہے کہ خُدا کی قدرت میں جو ایک خصوصیت ہے۔جیسی وہ خدا کہلاتا ہے۔وہ روحانی اور جسمانی قوتوں کے پیدا کرنے کی خاصیت ہے مثلاً جانداروں کے جسم کو جو "" له : " براہین احمدیہ ملتا حاشیه د روحانی خزائن جلد ۱ ص ۱۹۱ - ۱۹۲ به