اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کا اِسلامی تصور

by Other Authors

Page 54 of 121

اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کا اِسلامی تصور — Page 54

۵۴ خاک بنا کر رکھ دیتے ہیں۔وہ ذرے جن سے انسانی جسم بنا تھا وہ تو اب بھی موجود ہوتے ہیں مگر عملت کے بدل جانے کی وجہ سے انسانی جسم موجود نہیں رہتا۔جب اسی انسانی جسم کو آگ میں جلا دیا جاتا ہے یا پانی میں گلا دیا جاتا ہے یا بجلی سے راکھ کر دیا جاتا ہے تو جن چیزوں سے انسان بنا تھا وہ تو پھر بھی موجود رہتی ہیں مگر آگ یا بجلی یا پانی کے اثرات سے ان کی شکل بدل جاتی ہے اور انسانی جسم کو اس کی موجودہ شکل میں قائم رکھنے کی جو علت تھی۔اس کے مٹتے ہی انسانی جسم بھی مٹ جاتا ہے مگر خدا کے لئے یہ بات نہیں۔اُسے کوئی خارجی سبب جود نہیں دے رہا ہے یا اس کے وجود کو قائم نہیں رکھ رہا بلکہ وہ خود کامل ہستی ہونے کی وجہ سے موجود ہے اور وقت کی قید سے آزاد ہے۔گو انسانی دماغ نہیں سمجھ سکتا کہ وہ کیونکہ وقت کی قید سے آزاد ہے جبکہ سب مادہ وقت کی قید میں مبتلا ہے۔اس کا جواب در حقیقت یہی ہے کہ خُدا کا وجود اور طرح کا ہے اور انسان کا وجود اور طرح کا۔انسان کے وجود یا مادی وجود پیر خدا تعالیٰ کا قیاس نہیں کیا جا سکتا کیونکہ هُوَ اَحَدٌ وہ ہر چیز میں منفرد ہے۔اسی مضمون کو قرآن کریم ایک دوسری جگہ ان الفاظ میں بیان فرماتا ہے کہ خَاطِرُ السَّمواتِ وَالْأَرْضِ جَعَلَ لَكُم مِّن أَنفُسِكُمْ أَزْوَاجَاوَ مِنَ الأَنْعَامِ