الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 95
ضمیمه حقيقة الوحي ۹۵ الاستفتاء ثم أعرضوا عن قوله وما وافوا پھر بھی انہوں نے اس کی بات سے اعراض کیا اور دروب الحق بل منعوا من وافی حق کی راہوں کو نہ اپنایا بلکہ اسے روکا جس نے وخالفوه وماتوا على عناد و فساد انہیں اختیار کیا۔اور انہوں نے اس کی مخالفت کی كالعداء وفرحوا بهذه ونسوا اور وہ دشمنوں کی طرح عناد اور فساد کی حالت میں غدا۔أينكرون ما أنذر الله به مر گئے۔اور اس پر خوش ہوئے اور انہوں نے آنے ولا يجاوزون حد مصرعهم إذا والے کو بھلا دیا۔کیا وہ اس کا انکار کر دینگے جس القدر أتى، وترى كلُّ نفس ما سے اللہ نے ڈرایا ہے اور جب اجل مقدر آئے گی عمل من الهوى۔ومن أتى الله تو وہ اپنی موت کی جگہ سے تجاوز نہیں کر سکیں گے اور بقلب سليم فنجي من اللظى ہر جان جو اپنے ہوائے نفس سے کر چکی ہوگی اسے أما المعرض الأثيم فله دیکھ لے گی اور جو شخص اللہ کے حضور قلب سلیم کے الجحيم، لا يموت فيه ولا ساتھ حاضر ہوگا وہ جہنم کے شعلوں سے بچایا جائے يحيى وإنّا نُصبح و نمسی فی گا۔اور اعراض کرنے والے گناہ گار کے لئے جہنم هذا الانتظار، ونُجيل طَرْفَنا فی ہے جس میں نہ وہ مرے گا اور نہ جیئے گا۔اور ہم اسی كل طرفة إلى الأقدار۔وإن انتظار میں صبح و شام کرتے ہیں۔اور اپنی نگاہ کو ہر آن عذاب الله قد قرع بابكم قضا وقدر کی طرف دوڑاتے ہیں۔یقیناً اللہ کے وكسر أنيابـكـم، أفلا تنظرون؟ عذاب نے تمہارے دروازے پر دستک دی ہے اور وإن نفوسكم قد قربت أسد اس نے تمہاری کچلیاں تو ڑ دی ہیں تو پھر کیا تم دیکھتے الممات فى الفلوات، فأعدوا لها نہیں اور تم جنگل میں موت کے شیر کے قریب پہنچ گئے حصن النجاة، ولا تهلكوا ہو۔سواے غافلو! تم اس کے لئے نجات کا قلعہ تیار أنفسكم بأيديكم أيها الغافلون کرو۔اور خود اپنے ہاتھوں سے اپنے آپ کو ہلاک إن حياتكم بالإيمان والذين لا نہ کرو۔تمہاری زندگی ایمان اور دین سے وابستہ ہے بالرغفان والماء المعین نہ کہ روٹیوں اور چشمہ کے بہنے والے پانی سے