الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 94 of 242

الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 94

ضميمه حقيقة الوحي ۹۴ الاستفتاء لئے ۔ اور فمن سوء الأدب أن يقال إن عيسى پس یہ کہنا بے ادبی ہوگی کہ عیسی فوت نہیں ہوئے ما مات، وإن هو إلا شرك عظيم ۔۔ اور یہ شرک عظیم ہے جو نیکیوں کو کھا جاتا ہے۔ اور یہ يأكل الحسنات ويخالف الحصاة۔ ہے بھی عقل کے خلاف۔ بلکہ وہ (عیسی ) اپنے بل هو توفّى كمثل إخوانه، ومات دوسرے ( رسول ) بھائیوں کی طرح فوت ہو گئے كمثل أهل زمانه۔ وإن عقيدة اور اپنے ہم عصر لوگوں کی طرح وفات پاگئے۔ حياته قد جاءت فی المسلمین ان کی حیات کا عقیدہ عیسائی مذہب سے مسلمانوں من الملة النصرانية، وما اتخذوه میں در کر آیا ہے۔ اور انہوں نے صرف اسی إلها إلا بهذه الخصوصية، ثم خصوصیت کی وجہ سے ت کی وجہ سے اُسے معبود بنالیا ہے۔ پھر أشاعها النصارى ببذل الأموال نصاری نے مال و دولت خرچ کر کے اس عقیدہ کی في جميع أهل البدو والحضر، بما تمام دیہاتوں اور شہروں میں اشاعت کی۔ کیونکہ لم يكن أحد فيهم من أهل الفكر ان میں کوئی بھی اہل فکر و نظر نہ تھا۔ اور وہ جو والنظر۔ وأما المتقدمون من المسلمين فلم يصدر منهم هذا القول مسلمانوں میں سے متقدمین ہیں ان سے یہ بات صرف ٹھوکر اور لغزش کے سبب سے ہوئی ہے۔ إلا على طريق العثار والعثرة، پس نا دانستہ طور پر خطا کرنے کی وجہ سے وہ اللہ فهم قوم معذورون عند الحضرة، کے نزدیک معذور قوم ہیں ۔ اور انہوں نے یہ غلطی بما كانوا خاطئين غير متعمدين۔ وما أخطأوا إلا من وجه الطبايع محض سادہ لوحی کی وجہ سے کی ہے۔ اور اللہ الساذجة، والله يعفو عن كل مجتهد صحت نیت سے اجتہاد کرنے والے ہر مجتہد کو جو يجتهد بصحة النية، ويؤدى حق کسی خیانت کے بغیر حتی المقدور تحقیق کا حق ادا التحقيق من غير خيانة على قدر کرتا ہے، معاف فرما دیتا ہے ۔سوائے ان لوگوں الاستطاعة۔ إلا الذين جاء هم الإمام کے، جن کے پاس امام حکم ہدایت کے کھلے کھلے الحكم مع البينات من الهدى، وفرق دلائل لے کر آیا ۔ اور اس نے ہدایت کو گمراہی الرشد من الغيّ وأظهر ما اختفى سے علیحدہ کر دیا اور جو پوشیدہ تھا اسے ظاہر کر دیا۔