الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 92 of 242

الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 92

ضميمه حقيقة الوحى ۹۲ الاستفتاء ووالله، إنى أنا المسيح اور اللہ کی قسم ! میں ہی مسیح موعود ہوں اور میرے رب الموعود، وأعطانى ربّی سلطانا نے مجھے سلطان مبین عطا فرمایا ہے اور میں اپنے مبينا، وإني على بصيرة من ربّی رب کی طرف سے بصیرت پر قائم ہوں۔ اور اگر حجاب ولو رفع الحجاب لما ازددت اٹھ بھی جائے تو میرے یقین میں کوئی اضافہ نہ ہو۔ يقينا۔ إن الله رأى نفوسا اللہ نے لوگوں کو نافرمان اور زمانہ کو تاریک وتار عاصية وزمنا كليلة قاسية، رات کی طرح پایا تو اس نے مجھے بھیجا تا کہ وہ تو بہ فأرسلني لعلهم يتوبون۔ وكيف کریں۔ ہم انہیں نصیحت کیسے کریں جبکہ وہ لوگ ننصح لهم وإنهم قوم لا يسمعون، سنتے ہی نہیں اور وہ حق کی راہ سے ہٹتے جاتے ہیں۔ وإنهم عن صراط الحق لناكبون؟ انہوں نے اللہ کے مائدہ اور اس کی روٹی سے فرار فروا من مائدة الله ورغفانها، اختیار کیا اور بکھر گئے اور خوان اپنی جگہ پر دھرے کا وانتشروا وبقيت الخوان على دھرا رہ گیا اور انہوں نے دنیا کے روغنی نانوں کو ترجیح مکانها، و آثروا عصيدة الدنيا دی اور اس کے لئے ان کے منہ سے رال ٹپکی اور ان وتحلبت لها أفواههم، وتلمظَتُ کے ہونٹوں نے اس کا مزہ لیا۔ پس میری سچائی کے لها شفاههم، فأقل ما يكون في صدقى أن يصيبهم بعض الذي اظہار میں کم از کم یہ ہوگا کہ جن مصائب کی میں نے أعدهم، فما لهم لا ينتظرون؟ وعید کی ہے ان میں سے بعض مصیبتیں انہیں پہنچ کر رہیں گی۔ انہیں کیا ہو گیا ہے کہ وہ انتظار نہیں کرتے ۔ وہ وقالوا إن عيسى حى، وذالك لقلة علمهم بالقرآن والآثار، کہتے ہیں کہ عیسیٰ زندہ ہے اور یہ قرآن اور حدیث فينكرون موت عيسى أشد الإنكار، سے ان کی کم علمی کی وجہ سے ہے۔ پس وہ عیسی کی وعلى حياته يصرون۔ وتلك موت کا شدت سے انکار اور اس کی زندگی پر اصرار كلمة بها يموتون فاجتنب کر رہے ہیں اور اسی عقیدہ پہ وہ مرتے ہیں ۔ پس تو ذالك إن كنت من الذین اس سے اجتناب کر ۔ اگر تو ان لوگوں میں سے ہے جو يؤمنون بالفرقان ولا يكفرون فرقان حمید پر ایمان لاتے ہیں اور انکار نہیں کرتے ۔