الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 88
ضميمه حقيقة الوحي ۸۸ الاستفتاء و تلزمك المصائب ملازمة اور آپ کو مصائب قرض خواہ کے چھٹنے کی الغريم، والمآل معلوم بعد التعب طرح چمٹ جائیں گے۔ اور بڑی تگ ودو کے العظيم، وليست الحكومة بعد جو نتیجہ نکلے گا وہ معلوم ہے ۔ اور حکومت تارك المجرمين، فالخیر فی مجرموں کو چھوڑنے والی نہیں ۔ پس محتاط لوگوں کی إخفاء هذا الوحى كالمحتاطین طرح اس وحی کے پردہ اخفا میں رکھنے ہی میں فقلت إني أرى الصواب فی بھلائی ہے۔ اس پر میں نے کہا میں الہام کو عظمت تعظيم الإلهام، وإن الإخفاء دینا ہی درست سمجھتا ہوں اور اس کا اخفاء میرے معصية عندى و من سير اللئام نزدیک معصیت اور کمینوں کے خصائل میں سے وما كان لأحد أن يضر من دون ہے۔ اور مخلوق کے خالق کے علاوہ کسی کی مجال بارئ الأنام، ولا أبالي بعده نہیں کہ وہ نقصان پہنچا سکے۔ اور اس کے بعد مجھے تهديد الحكام، وندعو ربنا الذي حکام کی دھمکی کی پرواہ نہیں۔ اور ہم اپنے رب کو هو منبت الفضل، وإن لم پکارتے ہیں جو فضل کا اصل منبع ہے۔ اور اگر وہ يستجب فنرضى بالعيش الرذل دعا قبول نہ فرمائے تو ہم حقیر زندگی پر راضی ہیں ووالله، إنه لا يسلّط على هذا اور اللہ کی قسم وہ اس شریر ( سعد اللہ ) کو مجھ پر مسلط الشرير، وينزل عليه آفة وينجى نہیں کریگا۔ اور وہ اس پر آفت نازل کرے گا اور عبده المستجير۔ فسمع کلامی پناہ کے طال ہ کے طالب اپنے بندہ کو نجات دیگا۔ پس مخلصوں بعض زبدة المخلصين۔۔ الفاضل میں سے ایک چوٹی کے مخلص نے جو علم دین میں الجليل في علم الدين۔۔ أعنى فاضل اجل ہے میری بات کو سنا۔ اس سے میری محبنا المولوى الحكيم نور مراد ہمارے پیارے مولوی حکیم نورالدین صاحب الدين، فجرى عـلـى لـســانـه ہیں ۔ تو انکی زبان پر رُبَّ أَشْعَتَ حديث : رُبَّ أَشْعَثَ أَغْبَرَ، أَغْبَرَ والی حدیث جاری ہوئی۔ اور میری واطمأن القلوب بقولی وقوله اور ان کی اس بات سے دل مطمئن ہو گئے ۔