الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 89
ضمیمه حقيقة الوحي ۸۹ الاستفتاء وخطأوا المحذر، واستضعفوا اور انہوں نے اس غیر ضروری احتیاط کرنے والے کو موته من ربّ علام۔فأوحى إلى: رُبَّ أَشْعَثَ أَغْبَرَ لَو أَقْسَمَ عَلَى غلطی خوردہ قرار دیا اور انہوں نے اس کے خوف کی بناء هوله۔ثم دعوت على "سعد الله إلى ثلاثة أيام، وتمنيت بنياد کو کمز ور قرار دیا۔پھر میں نے سعد اللہ کے خلاف تین دن تک دعا کی اور ربّ علام سے اس کی موت کی تمنا کی جس پر مجھے وحی ہوئی کئی ایسے پراگندہ بال غبار آلو دلوگ ہیں کہ اگر وہ اللہ پر کسی بات کے لئے ) الله لأبره، يعنى إنه تعالى يدافع قسم کھا ئیں تو وہ اسے ضرور پورا کرتا ہے“۔مطلب یہ عنك شره۔فوالله ما مضى کہ اللہ تعالیٰ تجھ سے اس کے شر کو دور رکھے گا۔پس على إلَّا ليالي حتى جاء نی نعی اللہ کی قسم مجھ پر ابھی چند راتیں ہی گزری تھیں کہ مجھے موته، فالحمد لله على ما ضرب اس کی موت کی خبر آئی۔پس الحمد للہ کہ اس نے اپنے تازیا نے اُس دشمن پر برسائے۔العدو بسوطه۔أيها الناس۔۔إنِّي جنتُ من ربّی اے لوگو ! میں اپنے رب کی طرف سے ایک بمائدة لأطعم البائس الفقير ، مائدہ لے کر آیا ہوں تا میں ہر مفلوک الحال اور محتاج فهل فيكم من يأخذ هذا الخوان کو کھانا کھلاؤں۔پس ہے کوئی تم میں سے جو اس ﴿۳۷﴾ ويأمن الجوع المبير ؟ ومن لم خوان نعمت کو لے اور جان لیوا بھوک سے محفوظ يوافقه هذا الغذاء فهو من قوم ہو جائے۔اور جسے یہ غذا راس نہ آئی تو وہ ان يقال لهم أشقياء ، ومن أكله فله لوگوں میں سے ہے جنہیں بد بخت کہا جاتا ہے اور في هذه أجر كبير، ثم وراءها جس نے اسے کھایا تو اس کے لئے اس میں بہت فضل كثير۔يريد الله ليحط بڑا اجر ہے۔پھر اس کے بعد فضل کثیر ہے۔اللہ عنكم الأثقال، ويضع السلاسل چاہتا ہے کہ وہ تم سے بوجھ اتار دے اور زنجیریں والأغلال، وينقلكم من الأرض اور طوق اتارے اور وہ تمہیں قحط زدہ زمین سے المجدبة، إلى بلدة النعمة والرفاهة نعمت اور خوشحالی کے علاقہ کی طرف منتقل کر دے