الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 84
ضمیمه حقيقة الوحي ۸۴ الاستفتاء فترشّح الكفر منه ،وفاضَ پھر ان سے کفر چھلکا بلکہ بہنے لگا پس مجھے تعجب ہوا فأعجبني أن طير نفسكم ما فرخ کہ تمہارے نفس کے پرندے نے نہ چوزے نکالے اور وما باض۔أخُلقتم لأكل رغيف، نہ ہی انڈے دیئے۔اے اسراف کرنے والو! کیا تم مع شواء صفيف، علی خوان اس لئے پیدا کئے گئے ہو کہ تم صاف ستھرے دستر خوانوں نظيف، أيها المُسر فون؟ وقد قال پر آگ پر بھنے ہوئے گوشت کے ساتھ روٹیاں کھاؤ۔الله تعالى: مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ جبکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ”میں نے جنوں اور انسانوں وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ وما کو صرف اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے اور یہ قال "إلَّا ليـا كـلـون“۔يا سبحان نہیں فرمایا کہ صرف کھانے کے لئے پیدا کیا ہے۔واہ الله! أى طريق اخترتم، وأى نهج سبحان اللہ! کیا طریق ہے جو تم نے اختیار کیا ہے اور آثرتم؟ أتعيشون إلى آخر الدنيا الدنیا کیا راستہ ہے جو تم نے منتخب کیا ہے۔کیا تم رہتی دنیا ولا تموتون؟ و تقطفون ثمارها تک زندہ رہو گے۔اور مرو گے نہیں؟ اور ابد الآباد تک خالدين فيها أبدا، ولا تهلكون؟ ہمیشہ اس دنیا کے پھل چنتے رہو گے؟ اور ہلاک نہیں إن الدنيا قد انتهت إلى آخرها ہو گے۔دنیا کا آخر آگیا۔پس تم کیوں بیدار نہیں فلم لا تستيقظون؟ وقد حل ہوتے حالانکہ تمہاری اس سرز مین پر طاعون کی وباء أرضكم هذه وباء الطاعون اور دوسری آفات نے ڈیرے ڈال دیئے ہیں کیا تم و آفات أُخرى ألا تنظرون؟ وإن غور نہیں کرتے ؟ سردیوں کا موسم ہو یا گرمیوں کا یہ أَشْتَيْتُمْ أو أصفتم، فهى معكم ولا (بائیں) تمہارے ساتھ ہیں۔اور تمہارا پیچھا نہیں (۳۵) تفارقكم، ألا تبصرون؟ أ أخذ كم چھوڑیں گی۔کیا تم بصیرت سے کام نہیں لیتے ؟ کیا العشاء أم أنتم قوم عمون؟ وعنت تمہیں نظر کی کمزوری کا عارضہ لاحق ہو گیا ہے یا تم أمامكم مصائب شتی ، حتی ہو ہی اندھے۔اور گوناگوں مصائب تمہارے سامنے صُبّت على أنفسكم وأولادكم ظاہر ہو چکے۔حتی کہ خود تم پر، تمہاری اولاد تمہاری ونسائكم و ذوی القربی خواتین اور تمہارے اعزاء واقارب پر بھی وارد ہو گئے الذاريات : ۵۷