الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 83 of 242

الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 83

ضمیمه حقيقة الوحي ۸۳ الاستفتاء وهموا بأن ترتدوا وتكونوا اور انہوں نے یہ ارادہ کر رکھا ہے کہ تم مرتد ہو جاؤ اور كمثلهم حزب الشيطان۔فاعلموا ان کی طرح حزب شیطان بن جاؤ۔اللہ تم پر رحم رحمكم الله أن غيرة الله قد اقتضت کرے۔جان لو کہ اللہ کی غیرت نے اس زمانے میں في هذا الزمان أن يرسل عبدہ یہ تقاضا کیا ہے کہ وہ اپنے بندے کو بھیجے اور اپنا وعدہ وينجز وعده، وينجى حزبه من پورا کرے اور اپنے گروہ کو زیادتی کرنے والوں کے أهل العدوان۔فأنا هو العبد گروہ سے نجات دلائے۔پس میں ہی وہ بندہ ہوں المأمور، والوقت هو الوقت جسے مامور کیا گیا ہے اور یہ وقت وہی وقت ہے جو المسطور ، فهل أنتم تؤمنون؟ پہلے سے لکھا ہوا تھا۔پس کیا تم ایمان لاتے ہو۔اور والحق قد تبيّن، والوقت قد حق واضح ہو گیا ہے اور وقت متعین ہو گیا ہے۔پس تعيّن، فما لكم لا تفهمون؟ یا تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم نہیں سمجھتے۔افسوس تم پر کہ حسرات عليكم، إنكم صرتم أوّل سب سے پہلے تم میرا انکار کرنے والے بن کافر بي، و كنتم من قبل تنتظرون گئے۔حالانکہ اس سے پہلے تم انتظار کر رہے تھے۔ألا ترون كيف شاع الشرک فی کیا تم نہیں دیکھتے کہ کس طرح شرک زمین کے تمام أعطاف الأرض وأطرافها، اطراف وجوانب اور ملک کے گوشے گوشے میں وأقطار البلدة وأكنافها؟ أتكفرون پھیل چکا ہے۔کیا تم جانتے بوجھتے اس کا انکار بما أنزل الله وأنتم تعلمون؟ کر رہے ہو جو اللہ نے نازل فرمایا ہے۔يا عُلماء القوم ، لا تعمدوا اے قوم کے علماء ! تم نیند کے پیالوں کا رخ نہ لقداح النوم، والله يوقظكم کرو۔جبکہ اللہ تمہیں بڑے بڑے حوادث کے ذریعہ بحوادث كُبرى، وينبئكم بیدار کر رہا ہے۔اور تمہیں بڑی بڑی مصیبتوں بدواهي عُظمى۔فأين الخوف سے آگاہ کر رہا ہے۔پس نیکوں والا خوف کہاں كالأبرار، وأين ماء الدموع بذکر گیا۔اور قہار خدا کے ذکر سے بہنے والے آنسوؤں الله القهار؟ كنتم إناء الدین کا پانی کہاں گیا ہے تم دین کے برتن تھے۔