الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 82
ضميمه حقيقة الوحي ۸۲ الاستفتاء ويل لكم ولما تزعمون ! وقد أنبأ ہلاکت ہے تم پر اور تمہاری سوچ پر۔ اور اللہ نے ان الله بها قبل ظهورها ثم أنتم بالله امور کے ظہور سے پہلے ان کی خبر دی تھی ۔ پھر تم اللہ اور ورسله تستهزؤون۔ وإن الله يرى اس کے رسولوں سے استہزاء کرتے ہو۔ تم جو کچھ بھی كل ما تصنعون۔ ترون لیالی الکفر کرتے ہو اللہ اسے دیکھ رہا ہے۔ تم کفر کی راتوں اور وظلماتها، وتُحسّون حاجة مرسل انکی تاریکیوں کو دیکھتے ہو اور ایک مرسل کی ضرورت وأماراتها ثم أنتم تعرضون كأنكم اور اس کی علامات کو محسوس کرتے ہو، پھر بھی تم اعراض کر رہے ہو۔ گویا تم اندھی قوم ہو۔ جب اسلام کی صبح قوم عمون۔ وإذا ابتسم ثغر صبح متبسم ہوئی اور اللہ نے ارادہ فرمایا کہ وہ اپنے عظیم الإسلام، وأراد الله أن يجيح الشرك بآياته العظام، فلكم مكر في آياته لعل الناس إلى الحق لا يرجعون۔ وتقرؤون في ۴ سورة النور من غير الشك والغمة، أن الخلفاء كلهم يأتون من هذه الشان نشانوں کے ذریعہ شرک کا استیصال کرے۔ تو اُس کے نشانوں کی نسبت سازشیں کرنا تمہارا وطیرہ ہو گیا کہ شاید لوگ حق کی طرف رجوع نہ کریں۔ جبکہ بلا شک و شبہ تم سورۃ نور میں یہ پڑھتے ہو کہ تمام خلفاء اسی امت میں سے آئیں گے۔ پھر تم عیسی کی تلاش میں لگے ہوئے ہو جو بنی اسرائیل میں سے الأمة، ثم تلتمسون عيسى الذي ہے اور جوان ( خلفاء امت ) کے تعلق میں کہا گیا ہے هو من بني إسرائيل، وتنسون ما اسے بھول جاتے ہو۔ اور تم نبی ﷺ کی حدیث فيهم قيل۔ وتقرؤون في حديث میں اِمَامُكُمْ مِنْكُمُ ( تمہارا امام تمہیں میں سے نبي الله إِمَامُكُمْ مِنْكُمْ ، ثم أنتم ہوگا۔ ) کے الفاظ پڑھتے ہوئے ہو پھر بھی جاہلانہ رویہ اختیار تتجاهلون۔ أتكفرون بمن جاء کرتے ہو۔ کیا تم اس شخص کا انکار کرتے ہو جو رحمن خدا من الرحمن بالآیات البینات کی طرف سے کھلے کھلے نشان اور دلائل لے کر آیا ہے۔ والبرهان، وترون الكفار كيف اور تم کفار کو دیکھتے ہو کہ انہوں نے تمہارے دین جرحوا دينكم الذي هو خير الأديان ؟ كو جو تمام ادیان سے بہتر ہے کس طرح زخمی کیا ہے