الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 82 of 242

الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 82

ضمیمه حقيقة الوحي ۸۲ الاستفتاء ۳۴ ويل لكم ولما تزعمون! وقد أنبا ہلاکت ہے تم پر اور تمہاری سوچ پر۔اور اللہ نے ان الله بها قبل ظهورها ثم أنتم بالله امور کے ظہور سے پہلے ان کی خبر دی تھی۔پھر تم اللہ اور ورسله تستهزؤون۔وإن الله يرى اس کے رسولوں سے استہزاء کرتے ہو۔تم جو کچھ بھی كلّ ما تصنعون۔ترون ليالي الكفر کرتے ہو اللہ اسے دیکھ رہا ہے۔تم کفر کی راتوں اور وظلماتها، وتُحسّون حاجة مرسل انکی تاریکیوں کو دیکھتے ہو اور ایک مرسل کی ضرورت اور اس کی علامات کو محسوس کرتے ہو، پھر بھی تم اعراض وأماراتها ثم أنتم تعرضون كأنكم کر رہے ہو۔گویا تم اندھی قوم ہو۔جب اسلام کی صبح قوم عمون۔وإذا ابتسم ثغر صبح متبسم ہوئی اور اللہ نے ارادہ فرمایا کہ وہ اپنے عظیم الإسلام، وأراد الله أن يجيح الشرك بـآيــاتـه العظام، فلكم الشان نشانوں کے ذریعہ شرک کا استیصال کرے۔تو اُس کے نشانوں کی نسبت سازشیں کرنا تمہارا وطیرہ مکر فـي آيـاتـه لـعل الناس إلى ہو گیا کہ شاید لوگ حق کی طرف رجوع نہ کریں۔الحق لا يرجعون۔وتقرؤون في جبکہ بلا شک و شبہ تم سورۃ نور میں یہ پڑھتے ہو کہ ٣٢ سورة النور من غير الشك والغُمّة، تمام خلفاء اسی امت میں سے آئیں گے۔پھر تم عیسی أن الخلفاء كلهم يأتون من هذه کی تلاش میں لگے ہوئے ہو جو بنی اسرائیل میں سے الأمة، ثم تلتمسون عيسى الذى ہے اور جوان ( خلفاء امت ) کے تعلق میں کہا گیا ہے هو من بنى إسرائيل، وتنسون ما اسے بھول جاتے ہو۔اور تم نبی ﷺ کی حدیث فيهم قيل۔وتقرؤون في حدیث میں اِمَامُكُمُ مِنْكُمُ ( تمہارا امام تمہیں میں سے نبي الله إِمَامُكُمْ مِنْكُمْ، ثم أنتم ثم أنتم ہو گا۔کے الفاظ پڑھتے ہو پھر بھی جاہلانہ رویہ اختیار تتجاهلون أتكفرون بمن جاء کرتے ہو۔کیا تم اس شخص کا انکار کرتے ہو جو رحمن خدا من الرحمن بالآیات البینات کی طرف سے کھلے کھلے نشان اور دلائل لے کر آیا ہے۔والبرهان، وترون الكفّار کیف اور تم کفار کو دیکھتے ہو کہ انہوں نے تمہارے دین جرحوا دينكم الذي هو خير الأديان؟ كو جو تمام ادیان سے بہتر ہے کس طرح زخمی کیا ہے