الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 81 of 242

الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 81

ضمیمه حقيقة الوحي ΔΙ الاستفتاء وينفذ أمره من السماء إلى تحت اور وہ آسمان سے زمین کی پاتال تک حکم نافذ کرتا ہے الثرى۔فهل من فتى يخافه ولا پس کیا کوئی ایسا جوان ہے جو اس سے ڈرے اور يطغى؟ وهل من حُرّ يطيعه ولا سرکشی نہ کرے اور کیا کوئی ایسا شریف انسان ہے جو اس يأبى؟ أيتكنون على آراء آبائھم کی اطاعت کرے اور انکار نہ کرے۔کیا وہ اپنے پہلے الأولين؟ وليس لآرائهم ثبات آباء واجداد کے خیالات پر تکیہ کئے بیٹھے ہیں حالانکہ وتجدهم فيها مختلفين، وما ان کے خیالات میں کوئی پختگی نہ تھی اور تو ان کو اس زالت النوى تطرح برأيهم كل میں باہم اختلاف کرنے والا پائے گا۔اور ان کی رائے مطرح، فلا يثبت وليس له قرار کا سفر) ان کی آراء کو ہر لمحہ پھینکتا رہا پس اسے ويتبدل كل حين ووالله إنى ثبات نہ ملا اور نہ کوئی قرار اور وہ ہر لمحہ تبدیل ہوتی رہی صادق وجحدوا بما جئت به ہے۔اور اللہ کی قسم میں صادق ہوں اور انہوں نے بغير علم ولا برهان مبين۔وإنى بغیر کسی علم اور واضح دلیل کے اس چیز کا انکار کر دیا جو أعرض نفسى للذبح فما دونه إن میں لایا ہوں اور اگر وہ سچے ہیں تو میں اپنے آپ کو ذبح كانوا من الصادقين۔إن يقولون کرنے کے لئے پیش کرتا ہوں۔اس سے بڑھ کر کیا إلَّا رجـمـا بالغيب، وليسوا على ہو سکتا ہے؟ وہ صرف اندازے سے بات کرتے ہیں الحق مُعُثرين۔ويقولون إن اور حق سے آگاہ نہیں اور وہ کہتے ہیں کہ یہ زلزلے اور الزلازل والطاعون ما جاءت إلا طاعون صرف ان لوگوں کی نحوست کی وجہ سے آئے بنحوسة هؤلاء ، وإنهم قوم ہیں اور یہ منحوس قوم ہیں۔ان کے اقوال پر نگاہ ڈال ! منحوسون۔انظر إلى أقوالهم كہ وہ کیسی بے ہودہ گوئی کر رہے ہیں۔اے کتاب كيف يهذرون! يا أعداء الكتاب اور رسول کے دشمنو! تم کس بنا پر بدشگونی کر رہے ہو والرسول، بماذا تَطيَّرون؟ أجاء کیا عذاب اس لئے آیا ہے کہ اللہ نے اپنے بندے العذاب بما أرسل الله عبده ليتم کو رسول بنا کر بھیجا تا وہ اس کے ذریعہ اپنی حجت به حجته ولینذر قوما غافلين؟ تمام کرے اور تا وہ غافل قوم کو متنبہ کرے۔