الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 79 of 242

الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 79

ضمیمه حقيقة الوحي ۷۹ الاستفتاء ثم يمرون كأنهم ما رأوا ويتحامون پھر وہ یوں گزر جاتے ہیں گویا انہوں نے دیکھا ہی عن طرق التقوى، كأن أسدا نہیں اور وہ تقویٰ کی راہوں سے دور ہورہے ہیں۔يفترس فيها أو تأخذهم آفات گویا ایک شیر ہے جو ان راہوں میں چیر پھاڑ کر رہا ہو یا انہیں دوسری آفات گرفت میں لے رہی ہوں۔کیا وہ خیال کرتے ہیں کہ ان سے باز پرس أخرى۔أيظنون أنهم لا يُسألون ويتركون كشيء يُنسى؟ ألا نہیں کی جائے گی اور وہ بھولی بسری شے کی طرح يرون الآيات من ربّي، أو رأوا چھوڑ دیئے جائیں گے۔کیا وہ میرے رب کے كمثله معاملة الله برجل افتری؟ نشانوں کو نہیں دیکھتے یا انہوں نے اس کی مانند کسی ما لهم لا يتركون عادة الإيذاء ، مفتری کے ساتھ اللہ کا معاملہ دیکھا ہے۔انہیں کیا والسب والازدراء ؟ أأقسموا ہو گیا ہے کہ وہ ایذارسانی ، گالیوں اور تحقیر کی عادت کو وآلوا وعاهدوا عليه؟ والله نہیں چھوڑتے ؟ کیا انہوں نے قسمیں کھائیں اور يسمع ويراى یا حسرات عليهم حلف اٹھائے ہیں اور اس پر عہد کر رکھا ہے؟ حالانکہ إنهم جاوزوا حد التقى، وطبع الله ستا اور دیکھتا ہے۔ان پر افسوس انہوں نے تقویٰ عـلـى الـقـلـوب فآثروا العشا کی حد سے تجاوز کیا اور ان کے دلوں پر مہر کر دی گئی۔پس انہوں نے اندھے پن کو ترجیح دی۔وہ مخلوق سے والعمى۔يخافون الخلق ولا ڈرتے ہیں لیکن اللہ سے نہیں ڈرتے۔اور وہ جہنم کی يخافون الله، ولا يتقون حرّ النّار حرارت اور اس کے شعلوں سے نہیں ڈرتے۔انہیں واللظى۔وقد أوتوا مفاتيح دار دین کے گھر کی کنجیاں دی گئیں لیکن وہ نہ تو خود اس الـديـن فـمـا دخلوها، وما رضوا میں داخل ہوئے اور نہ انہوں نے پسند کیا کہ دوسرے بأن يدخلها زمر أخرى۔أيُرجى گروہ ہی اس میں داخل ہوں۔کیا ان سے یہ امید کی منهم أن يؤمنوا بإمام وقتهم، بل جاسکتی ہے کہ اپنے امام وقت پر ایمان لائیں بلکہ يقولون كذَّابٌ يُضل الورى، وہ تو اسے کذاب کہتے ہیں جو دنیا کو گمراہ کر رہا ہے