الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 79
ضميمه حقيقة الوحي ۷۹ الاستفتاء ثم يمرون كأنهم ما رأوا ويتحامون پھر وہ یوں گزر جاتے ہیں گویا انہوں نے دیکھا ہی عن طرق التقوى، كأن أسدا نہیں اور وہ تقوی کی راہوں سے دور ہو رہے ہیں۔ گویا ایک شیر ہے جو ان راہوں میں چیر پھاڑ کر رہا يفترس فيها أو تأخذهم آفات ہو یا انہیں دوسری آفات گرفت میں لے رہی أخرى۔ أيظنون أنهم لا يُسألون ہوں ۔ کیا وہ خیال کرتے ہیں کہ ان سے باز پرس ويتركون كشيء يُنسى؟ ألا نہیں کی جائے گی اور وہ بھولی بسری شے کی طرح يرون الآيات من ربي، أو رأوا چھوڑ دیئے جائیں گے۔ کیا وہ میرے رب کے كمثله معاملة الله برجل افتری؟ نشانوں کو نہیں دیکھتے یا انہوں نے ا نے اس کی مانند کسی ما لهم لا يتركون عادة الإيذاء ، مفتری کے ساتھ اللہ کا معاملہ دیکھا ہے۔ انہیں کیا والسب والازدراء ؟ أأقسموا ہو گیا ہے کہ وہ ایذا رسانی ، گالیوں اور تحقیر کی عادت کو و آلوا وعاهدوا عليه؟ والله نہیں چھوڑتے؟ کیا انہوں نے قسمیں کھائیں اور يسمع ويرای۔ یا حسرات عليهم! حلف اٹھائے ہیں اور اس پر عہد کر رکھا ہے؟ حالانکہ إنّهم جاوزوا حد التقى، وطبع الله سنتا اور دیکھتا ہے۔ ان پر افسوس انہوں نے تقویٰ کی حد سے تجاوز کیا اور ان کے دلوں پر مہر کر دی گئی۔ على القلوب فآثروا العشا والعمى۔ يخافون الخلق ولا يخافون الله، ولا يتقون حر النار پس انہوں نے اندھے پن کو ترجیح دی۔ وہ مخلوق سے ڈرتے ہیں لیکن اللہ سے نہیں ڈرتے۔ اور وہ جہنم کی حرارت اور اس کے شعلوں سے نہیں ڈرتے ۔ انہیں واللظى۔ وقد أوتوا مفاتيح دار دین کے گھر کی کنجیاں دی گئیں لیکن وہ نہ تو خود اس الدين فما دخلوها، وما رضوا میں داخل ہوئے اور نہ انہوں نے پسند کیا کہ دوسرے بأن يدخلها زمر أخرى۔ أيُرجى گروه ہی اس میں داخل ہوں ۔ کیا ان سے یہ امید کی منهم أن يؤمنوا بإمام وقتهم، بل جاسکتی ہے کہ اپنے امام وقت پر ایمان لائیں بلکہ يقولون كذَّابٌ يُضل الورى وہ تو اسے کذاب کہتے ہیں جو دنیا کو گمراہ کر رہا ہے