الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 78
ضمیمه حقيقة الوحي ZA الاستفتاء ويتكلمون كما يتكلم السفهاء، يضلّون جبکہ باتیں بے وقوفوں جیسی کرتے ہیں۔علم اور الناس بغير علم و هدى، ويعرضون عن ہدایت کے بغیر لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں اور جوحق کھل الحق الذي حصحص و تجلى۔ويُدفنون کر ظاہر ہو چکا ہے اس سے رخ پھیر لیتے ہیں۔وہ خير الرسل في التراب، ويُصعدون خير الرسل علیہ کو تو خاک میں دفن کرتے ہیں مگر عیسی عيسى إلى السماوات العلی فتلک کو بلند آسمانوں پر چڑھاتے ہیں۔یہ تو پھر بہت ہی إذا قسمة ضيزای ! يبصرون ثم لا ناقص تقسیم ہے۔وہ دیکھتے ہوئے بھی نہیں دیکھتے۔وہ يبصرون، يرون الحق ثم يتعامون وهم حق کو دیکھتے ہیں لیکن پھر بھی جانتے بوجھتے ہوئے يعلمون، ويكتمون الحق الذى ظهر اندھے بن جاتے ہیں اور وہ اس حق کو چھپاتے ہیں كشمس الضحى۔ألا يرون نصر الله جو روشن آفتاب کی طرح ظاہر ہو گیا۔کیا وہ اللہ کی مددکو كيف أتى؟ ويُريهم الله كل سنة ما نہیں دیکھتے کہ وہ کس طرح آئی۔اللہ انہیں ہر سال وہ یکرهونها من آيات عظمی عظیم نشانات دکھاتا ہے جنہیں وہ نا پسند کرتے ہیں کہ 6 ☆ حمد إني كتبت غير مرة أن من أعظم آى الله ما أنبانی حملے میں بار بارلکھ چکا ہوں کہ اللہ کے عظیم نشانات میں سے ایک وہ پیشگوئی ہے بكثرة الجماعة، ورجوع الناس إلى فوجا بعد فوج جس میں مجھے جماعت کی کثرت ، لوگوں کے فوج در فوج میری طرف رجوع ودخولهم في هذه السلسلة۔وكان هذا الوحى في زمن کرنے اور ان کے اس سلسلہ میں داخل ہونے کی خبر دی گئی ہے۔اور یہ وی اس كنت فيه رجلا خاملا لا يعرفني أحد لا من الخواص زمانے کی ہے جب میں ایک گمنام شخص تھا جسے کوئی نہ جانتا تھانہ خواصوں میں سے ولا من العامة۔ثم بعد ذالك زادت جماعتي إلى حد اور نہ عوام میں سے۔اس کے بعد میری جماعت اس حد تک بڑھی کہ اس کی پوری لا يعرف عددهم على الوجه الكامل إلا عالم الغيب اور صحیح تعداد عالم الغیب والشہادہ خدا کے سوا کوئی نہیں جانتا۔وہ اس ملک اور والشهادة، وانتشروا في هذه البلاد وبلاد أخرى كصيب يعمّ كلّ أقطار البلدة۔ففكّروا۔۔أليس ذالك ن الآيات العظيمة؟ وقد أيّد كلامي هذا المكتوب من دوسرے ممالک میں پھیل گئے ہیں اس موسلا دھار بارش کی طرح جو ملک کے تمام اطراف میں برستی ہے۔پس غور و فکر کرو کیا بی نظیم نشانات میں سے نہیں ؟ اور میری میں پس وفکر کیا میں ؟ اور میری بات کی تائید اس خط نے بھی کی ہے جو مجھے آج آخر جنوری 1907ء کو سرزمین الذي بلغني اليوم في آخر جنورى سنة ١٩٠٧ء من أرض مصر، فأكتب منه السطرين لملاحظة أهل مصر سے پہنچا ہے۔میں اہل انصاف کے ملاحظہ کے لئے اس کی دوسطریں تحریر النصفة، وهو هذا : إلى ذى الجلال والاحترام المسيح میں لاتا ہوں جو یہ ہیں: بطرف ذی شان و قابل احترام مسیح موعود مرزا غلام احمد الموعود ميرزا غلام أحمد القادياني الهندی قادیانی، ہندی، پنجابی تحیہ سلام کے بعد عرض ہے کہ آپ کی اتباع کرنیوالوں کی الفنجابی، بعد التحية، لقد كثرت أتباعكم فی تعداد ہمارے ملک میں بڑی کثرت سے ہے جو کثرت تعداد میں ریت کے هذه البلاد وصارت عدد الرمل والحصا، ولم ذروں اور کنکریوں کے برابر ہیں اور ہر ایک آپ کے عقیدہ پر عمل کرنے والا اور يبق أحد إلا وعمل برأيكم واتبع أنصاركم۔آپ کے انصار کی اتباع کرنے والا ہے۔الراقم : أحمد زهرى بدر الدين، من اسكندرية، ۱۹ دسمبر سنة ١٩٠٦ء منه الراقم : احمد زہری بدرالدین از اسکندریہ 19 دسمبر 1906ء۔منہ