الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 77 of 242

الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 77

ضمیمه حقيقة الوحي LL الاستفتاء وكثير منهم من الدين يرتدون اور اُن میں سے بہت سے دین سے برگشتہ ہو رہے لا ينزل بلاء إلا عليهم، ولا ہیں۔کوئی مصیبت نازل نہیں ہوتی مگر ان پر، کوئی تهلك داهية إلا قومهم۔ما مصيبت بلاک نہیں کرتی مگر انہی لوگوں کو کوئی بدعت حدثت بدعة إلا ولجت بينهم پیدا نہیں ہوتی مگر وہ اُن میں راہ پالیتی ہے۔اور دنیا نے وما عرضت عليهم الدُّنيا عينها اپنا مال و زر ان کے سامنے پیش نہیں کیا مگر اس کے إلَّا فقأتُ بها عينهم نری شبانهم ذریعہ ان کی آنکھیں پھوٹ گئیں۔ہم ان کے نوجوانوں تركوا شعار الملة الإسلامية کو دیکھتے ہیں کہ انہوں نے ملت اسلامیہ کے شعار ومحوا آثار سنن النبوية کو ترک کر دیا ہے اور سنن نبویہ کے نشان مٹادیئے يحلقون اللحى، ويعظمون ہیں۔نصرانی لباس پہننے کے ساتھ ساتھ داڑھیاں السبال، ويطوّلون الشوارب، مونڈ تے مونچھوں کو لمبا کرتے ہیں۔پس وہ اس زمانہ مع تلبس الحلل النصرانية۔فهم میں ان سب سے زیادہ بد بخت ہیں جن پر آسمان نے في هذا الزمن أشقى من أظلَتُه سایہ کیا ہے اور جنہیں زمین نے پناہ دی ہے۔اللہ کا السماء ، وآوته الغبراء۔فضل جب بھی آتا ہے اس سے منہ پھیر لیتے ہیں اور يعرضون عن فضل الله إذا أتى، اللہ کا رحم جب بھی آتا ہے تو اس سے بھاگ جاتے ويفرون من رحم الله إذا وافی ہیں۔اور اللہ کا خوان جب بھی قریب آتا ہے تو اس عن خوان الله إذا دنا سے کنارہ کشی اختیار کرتے ہیں اور دوسری راہوں کی واتبعوا طرقًا أُخرى۔لا يخافون پیروی کرتے ہیں۔وہ آگ کی گرمی اور شعلوں سے حر النار واللظى، ويخافون نہیں ڈرتے مگر اس دنیا کی تلخی سے ڈرتے ہیں اور مرارة هذه الدنيا، والطريق انہوں نے اس ساری راہ کو پائمال کر دیا ہے جس کے الذي مـا نـصـفـه الشيطان وطنوا نصف تک بھی شیطان نہیں پہنچا۔پس وہ سرکش خناس كله، فسبقوا الخنّاس الأطغى شیطان سے بھی سبقت لے گئے ہیں۔اور ان میں کچھ ومنهم قوم يقولون إنا نحن العلماء، ایسے لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ صرف ہم ہی علماء ہیں ۳۲