الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 76
ضميمه حقيقة الوحي ۷۶ الاستفتاء وما كنت مشتاق الظهور، بل اور نہ مجھے ظاہر ہونے کا شوق تھا بلکہ میں پسند کرتا تھا کہ كنت أحب أن أعيش مكتومًا اہل قبور کی مانند پوشیدہ زندگی بسر کروں لیکن میرے كأهل القبور، فأخرجنی ربّی علی رب نے مجھے میرے باہر نکلنے کی کراہت کے باوجود كراهتي من الخروج، وأضاء باہر نکالا۔ اور شہرت اور عروج سے میرے فرار کے اسمى في العالم مع هربي من باوجود اس نے تمام عالم میں میرا نام روشن کیا۔ عمر کا الشهرة والعروج، ولبثت عمرًا ایک حصہ میں نے ایک راز نہاں کی مانند یا ایک كالسر المستور، أو القنفذ خوفزدہ خار پشت کی طرح ، یا مٹی میں بوسیدہ ہڈی یا المذعور، أو كرميم في التراب، کھجور کی گٹھلی کے حقیر ریشے کی مانند گزارا ۔ پھر أو كفتيل خارج من الحساب۔ میرے رب نے مجھے وہ کچھ دیا جو دشمنوں کو غصہ دلا ثم أعطاني ربي ما يحفظ العدا، رہا ہے اور روشن وحی سے اس نے مجھ پر احسان فرمایا ومن على بوحي أجلى۔ فاشتعل جس پر نادان بھڑک اٹھے اور ظلم ڈھایا اور ان میں سے السفهاء وظلموا، وكان بعضهم من البعض أطغى، وسفت منهم على الأعاصر والصراصر ہر ایک دوسرے سے زیادہ سرکش تھا۔ ان کی طرف سے میرے خلاف بگولے اور نہایت تیز آندھیاں العظمى، فرأيتم مالهم يا أولى آئیں ۔ پس اے اہل دانش تم نے ان کا انجام دیکھ النهي۔ ثم بعدهم أدعوكم إلى ليا۔ پھر ان کے بعد میں تمہیں اللہ کی طرف بلاتا الله، فإن تقبلوا فالله حسبکم ہوں اگر تم قبول کرو گے تو اللہ تمہارے لئے کافی ہے وإن تكفروا فالله حسيبكم، اور اگر انکار کرو گے تو اللہ ہی تمہارا حساب لینے والا والسلام على من اتبع الهدى۔ ہے۔ سلامتی ہو اس پر جس نے ہدایت کی پیروی کی۔ يا فتيان رحمكم الله ۔ ترون اے جوانو! اللہ تم پر رحم فرمائے ۔ تم دنیا میں ایک انقلابًا عظيمًا في العالم، وتشاهدون عظیم انقلاب دیکھ رہے ہو۔ اور مختلف قسم کے نشان من أنواع المعالم۔ وأشقى النَّاسِ فی مشاہدہ کر رہے ہو۔ اس زمانے میں سب سے هذا الزمن المسلمون۔ نُهب دنياهم بد بخت لوگ مسلمان ہیں جن کی دنیا چھین لی گئی