الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 75 of 242

الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 75

ضميمه حقيقة الوحى ۷۵ الاستفتاء کذالک جرت سنة الله فی مخلوق میں اللہ کی یہی سنت جاری ہے اور جب وہ المخلوقين۔ وإذا أقبلوا على الله الله کی طرف توجہ کرتے ہیں تو ان کی ( دعا ) سنی سمع لهم، وإذا استفتحوا فخاب جاتی ہے۔ اور جب وہ فتح کی دعا کرتے ہیں تو ہر ۳ كل ظلام ضنين۔ يعيشون تحت ظالم بخیل نامرادونا کام ہو جاتا ہے۔ وہ اللہ کی چادر رداء الله۔۔ تراهم أحياء وهم من کے نیچے زندگی بسر کرتے ہیں۔ تو انہیں زندہ دیکھتا الفانين۔ أتظن أن هذا القوم قد ہے حالانکہ وہ فنافی اللہ ہیں۔ کیا تو خیال کرتا ہے کہ خلوا من قبل ولا يريد الله أن ایسے لوگ صرف پہلے زمانے میں ہی ہو چکے ہیں يخلق مثلهم في الآخرين ؟ اور یہ کہ اللہ آخرین میں ان جیسے لوگ پیدا کرنا نہیں ثقلتك أُمك! إن هذا إلا خطأ چاہتا۔ تیری ماں تجھے کھوئے ایسا خیال صریح غلطی مبین۔ یا عافاك الله ۔۔ بعدت ہے۔ اے (بھائی) اللہ تیرا بھلا کرے۔ تو تمام بعدًا عظيما من سنن الله ربّ کائنات کے پروردگار اللہ کی سنتوں سے بہت دور العالمين۔ لو لا وجودهم جاپڑا۔ اگران ( مرسلین ) کا وجود نہ ہوتا تو زمین اور لفسدت الأرض ومن فيها، اس میں بسنے والوں میں ایک فساد برپا ہو جاتا یہی فلذالك وجب وجودهم إلى وجہ ہے کہ روز جزا تک کے لئے ان کا وجود لازم يوم الدين۔ اور ضروری ہو گیا۔ وما أرسلني ربي إلا ليكف عنكم میرے رب نے مجھے اس لئے بھیجا تا وہ کفار کے ہاتھوں کو تم تک پہنچنے أيدى الكفار، ويُهيئكم لنزول اور تمہیں الأنوار، فما لكم لا تشكرون بل سے روکے اور نزول انوار کے لئے تیار کرے۔ پھر کیا ہو گیا ہے کہ تم شکر ادا نہیں کرتے بلکہ ہدایت سے منہ موڑ تعرضون عن الهدى؟ أتعلمون رہے ہو کیا تم سمجھتے ہو کہ تمہیں بے لگام چھوڑ أنكم تُتركون سُدى؟ وإن مع اليوم دیا جائے گا اور ہر آج کے لئے کل ہے۔ میں اپنی غدا۔ وما جئتكم من هوى النفس کسی خواہش نفس کے تحت تمہارے پاس نہیں آیا ثقلتک سہو کتابت معلوم ہوتا ہے۔ ٹکلتک ہونا چاہئے ۔(ناشر)