الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 74 of 242

الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 74

ضمیمه حقيقة الوحي ۷۴ الاستفتاء تركوا وکذالک یفعل فاعطى أرواحهم حللا كبرق مع تو اس کے نتیجہ میں اللہ نے ان کی ارواح کو عمدہ غذاء لطيف، ورد إليهـم مــا غذاؤں کے ساتھ ساتھ چمکدار پوشاکیں عطا کیں۔اللہ اور جو کچھ انہوں نے چھوڑا تھا ان کی طرف دوبارہ بالمخلصين۔ونظر الله إليهم لوٹا دیا گیا اللہ اپنے مخلص بندوں کے ساتھ ایسا ہی کیا کرتا ہے۔اللہ نے ان پر نگاہ ڈالی تو انہیں طیب فوجدهم الطيبين الطاهرين، وطا ہر پایا اور اس نے دیکھا کہ وہ اسے اس کے غیر پر ورأى أنهـم يــؤثـــرونــــه عـلـى ترجیح دیتے ہیں تو اس نے انہیں اغیار پر ترجیح دی اور غيرهم، فآثرهم على الأغيار اس نے دیکھا کہ وہ اس کے ہیں تو وہ ان کا ہو گیا ورأى أنهم كانوا له فكان لهم، اور اس نے انہیں انوار کے اترنے کی جگہ بنادیا۔وجعلهم مهبط الأنوار اسی طرح اس کی یہی سنت اولین سے آخرین تک وکذالک جرت سنته من جاری ہے اور بہت سے کنوئیں ان کے لئے الأولين إلى الآخرين۔وكـم کھودے جاتے ہیں لیکن اللہ خود اپنے ہاتھوں سے بتر تحفر لهم، فيخرجهم الله انہیں باہر نکال لیتا ہے اور انہیں مصیبت اس لئے نہیں پہنچتی کہ وہ ہلاک کئے جائیں بلکہ اس لئے بأيديه، ولا تصيبهم مصيبة ليهـلـكـواء بـل لـيــرى الـلـه بهـا کہ اللہ اس کے ذریعہ ان کی کرامت دکھائے۔اور کوئی آفت ان پر اس لئے نازل نہیں ہوتی کہ وہ تباہ کئے جائیں بلکہ اس لئے کہ تا اللہ اس کے كرامتهم، ولا تنزل عليهم آفة ليدمروا بل ليثبت الله بها أنهم ذریعہ یہ ثابت کرے کہ یہ تائید یافتہ افراد میں سے مــن الـمـؤيــدين۔أولئك رجال ہیں۔یہی وہ لوگ ہیں جنہیں ان کے پیارے صافاهم حِبُّهم۔ولا يخزى الله ( خدا ) نے چن لیا ہے۔اور اللہ کسی قوم کو اس قوما إلا بعد أن يتألم قلوبهم وقت تک رسوا نہیں کرتا جب تک ان مخلصین کے بإيذاء تلك الخبیثین، دل ان خبیثوں کی ایذاء سے درد میں مبتلا نہ ہوں۔