الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 73 of 242

الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 73

ضمیمه حقيقة الوحي ۷۳ الاستفتاء فاختارواله اليوم الأسود پس انہوں نے اس کی خاطر روز سیاہ اور موت احمر والموت الأحمر، وأعطوه ( یعنی شہادت کی موت ) کو منتخب کر لیا۔اور اپنا ظاہر و الظاهر والمضمر ، وسعوا إليه باطن اس کو دے دیا اور اپنی مقدور بھر طاقت سے بوجدهم، وقضوا مناسک اس کی جانب دوڑتے چلے آئے اور اپنے مناسک عشقهم، وأتموا طواف محبتهم، عشق ادا کئے اور اپنی محبت کا طواف مکمل کیا۔یہ لوگ أولئك لا يُخزون فى هذه وفى اس دنیا میں اور جزا سزا کے دن رسوا نہیں کئے يوم الدين، وسيسكنون فی جائیں گے۔اور وہ عزت و رفعت کے محلات میں مقاصر عزّ ورفعة۔لا يرون تجاه سكونت اختیار کریں گے دشمنوں کے مقابل پر اپنی العدا من عشرة، ويحفظهم الله کوئی لغزش نہیں دیکھیں گے۔اور اللہ انہیں ہر من كلّ صرعة، ويقيلهم شکست سے محفوظ رکھے گا اور انہیں معاف کرے وينعشهم عند کل سقطة گا۔اور ہر ٹھو کر کے وقت انہیں رفعت دے گا پس فيعيشون محفوظين۔والفرق وہ محفوظ زندگی بسر کریں گے۔ان کے اور مفتریوں بينهم وبين المفترین کشمس کے درمیان وہی فرق ہے جو دو پہر کے سورج اور الضحى والليل إذا سجى، أو تاریک رات کے درمیان یا عمدہ دودھ اور نہایت کحليب لطيف وخل ثقیف ترش سر کے کے درمیان ہوتا ہے دیکھنے والوں کیلئے يتراءى نور جبهتهم للناظرین ان کا نور جبیں ظاہر ہوتا ہے۔انہوں نے زنِ دنیا إنهم سرحوا امرأة الدنيا وزينتها، اور اس کی زینت کو خیر باد کہہ دیا اور آخرت کو اختیار واختاروا الآخرة وذاقوا سكينتها، کیا اور اس کی سکینت کا مزا چکھا۔اپنی خواہشات استراحوا مع الله بعد ترک ترک کرنے کے بعد وہ اللہ کے ساتھ تعلق کے نتیجہ أهوائهم، وخروا على حضرة الله میں آرام یافتہ ہوئے اور اللہ کے آستانہ پر گر گئے اور اور وفروا إليه منقطعين، وقنعوا من دنیا سے منقطع ہو کر اس کی طرف دوڑ کر آگئے اور دنیا الدنيا بثوب کثیف، وبقل قطیف میں سے موٹے کپڑے اور رڈی سبزی پر قناعت کی،