الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 69
ضميمه حقيقة الوحي ٦٩ الاستفتاء ولو اتفق فرق الكفّار، فإن شهادة خواہ کافروں کے تمام فرقے باہم متحد ہو جائیں الشهداء تسود وجه من أبى، کیونکہ گواہوں کی گواہی نے ہر انکار کرنے والے کے وكيف الإنكار من شمس منہ کو کالا کر دیا ہے۔ دو پہر کے سورج کا انکار کیسے الضحى؟ ثم إذا تمت كلمة ربّی ممکن ہو سکتا ہے جب میرے رب کی بات پوری وملأ الله جرابی، تبادَرَ القومُ ہوئی اور اللہ نے میری تھیلی کو بھر دیا تو لوگ میرے بابي، وصرت من القطرة در پر دوڑتے چلے آئے اور میں قطرے سے سمندر كالبحار، ومن الذرة كالجبال اور ذرے سے بڑے بڑے پہاڑوں کی طرح ہو گیا الكبار، ومن زرع صغير اور چھوٹے پودوں سے پھلوں سے لدے ہوئے كالأشجار المملوة من الثمار، درخت اور ایک کیڑے سے میدان کارزار کا بطل ومن دودة ككُماة المضمار، إن جلیل بن گیا یقیناً اس میں بصیرت رکھنے والوں في ذالك لآية لأولى الأبصار کے لئے ایک بڑا نشان ہے۔ اسی طرح میرے و کذالک بشر نی ربّی بطول رب نے میرے آغاز میں ہی میری درازی عمر کی عمري في بدء أمرى وقال : تری مجھے بشارت دے دی تھی اور فرمایا تھا کہ تو دور کی نسلا بعيدًا۔ فعمرني ربي حتى نسل دیکھے گا سو میرے رب نے مجھے اتنی لمبی عمر رأيت نسلی و نسل نسلى، ولم عطا عطاف فرمائی کہ میں نے اپنی نسل اور نسل کی نسل دیکھی يتركني كالأبتر الذى لم يُرزق اور اس نے مجھے ابتر نہیں رکھا جس کی کوئی اولاد وليدا، وتكفى هذه الآية سعيدا نہ ہو۔ اور یہ نہ ہو۔ اور یہ نشان ایک سعید الفطرت کے لئے کافی فأفتوني أيها العلماء والمحدثون ہے۔ پس اے عالمو ! محد ثو ! اور فقیہو ! مجھے فتویٰ والفقهاء ۔۔ أتجوز عقولكم أن دو کیا تمہاری عقلیں جائز قرار دیتی ہیں کہ اللہ تلك المعاملات كلها يعامل ایک ایسے شخص کے ساتھ جسے وہ جانتا ہے کہ وہ اس الله برجل يعلم أنه يفترى پر افترا کرتا اور اس کی آنکھوں کے سامنے جھوٹ بولتا عليه، ويكذب أمام عينيه؟ ہے ان تمام معاملات میں یہ سلوک روا رکھے۔ 66