الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 4 of 242

الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 4

ضميمه حقيقة الوحي ۴ الاستفتاء وما وُجد في عمله شيء يخالف اور اس کے عمل میں بھی کوئی ایسی چیز نہیں پائی گئی جو سنة خير الأنبياء ، بل يؤمن بكل خير الانبياء صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مخالف ہو۔ ما جاء به الرسول الكريم من بلکہ وہ ان تمام احکام اور پیش گوئیوں پر ایمان رکھتا الأحكام والأنباء ، وبكل ما ثبت ہے جو رسول کریم لے کر آئے تھے۔ اور ہر اس بات پر من نبينا سيد الأتقياء ۔ وإنه من ایمان رکھتا ہے جو تمام متقیوں کے سردار ہمارے نبی أساة الهوى، وقد أسا جُرُحَ (ع) سے ثابت ہے۔ اور وہ ایمان رکھتا ہے کہ الذنوب وداوى، وجاء ليؤسى آپ نفسانی خواہشات کے معالج ہیں۔ آپ نے بين الورى، ويوصل بالأمة تمام گناہوں کے زخموں کا علاج اور مداوا کیا اور آپ ا اس لئے تشریف لائے تا کہ آپ تمام جہان کی الآخرة أمما أولى۔ ولو بغيت له الأسى، لوجدت فيه أسوة المصطفى، يقتدى به في كل سنن الهدى ۔ وسعى العدا كل صلى الله اصلاح فرماویں۔ اور آخری امت کا رشتہ پہلی امتوں سے جوڑیں۔ اور اگر تو اس کے اعمال کے نمونہ کا متلاشی ہے تو ضرور اس میں مصطفیٰ" کا اُسوہ پائے گا۔ ہدایت کی تمام راہوں میں وہ آپ کی پیروی السعى وسقطوا عليه كالبلاء ، کرتا ہے۔ دشمنوں نے پوری کوشش کی اور بلا کی طرح وتقصوا أمره بكل الاستقصاء ، اس پر ٹوٹ پڑے۔ اور اس کے معاملہ کی پوری چھان ليجدوا فيه نقصًا أو يَعْثِرُوا على بين کی تاکہ اس کے کسی ایسے قول پر اطلاع پاویں قول منه فيه مخالفة الملة الغراء، جس میں ملت بیضاء کی مخالفت ہو۔ اور بمقتضائے وخاضوا في سوانحه من مقتضی بغض و عناد وہ اس کے سوانح کے مطالعہ میں جت گئے البغض والشحناء ۔ فما وجدوا مع لیکن اپنی شدت عداوت کے باوجود وہ جرح وقدح شدّة عداوتهم سبيلا إلى القدح اور نکتہ چینی اور تحقیر کے لئے کوئی راہ نہ پا سکے۔ والزرى والازدراء ، ولا طریق عمل اور نہ ہی انہوں نے کوئی ایسا طریق کار پایا جسے يُحمل على الأغراض والأهواء خود غرضی اور خواہشات پر محمول کیا جا سکے۔