الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 65
ضميمه حقيقة الوحى ۶۵ الاستفتاء فإن كنت لا تخاف الله فامُضِ پس اگر تجھے خوف خدا نہیں تو پھر اپنی ڈگر پر چلتا جا ﴿۲۷﴾ علی وجهک، یأتی اللہ اللہ تیری جگہ کسی اور کو لے آئے گا اور اگر تو اس سے بعوضك۔ وإن كنت تتقيه ڈرتا ہے تو پھر دلیل بالکل واضح ہے اور معاملہ فالبرهان بين والأمر هين۔ قد آسان ہے۔ اسلام نے موسم خزاں کے تھپیڑے رأى الإسلام صدمات الخریف کھاتے ہیں۔ پس اب دیکھ کیا موسم بہار اور خوشگوار فانظر ۔۔ ألم يأن وقت الربيع بارنسیم کا وقت نہیں آیا؟ اور تو دیکھتا ہے کہ ہمارے والنسيم اللطيف؟ وترى أن اس زمانہ میں دل خشک سالی کا شکار ہو گئے ہیں القلوب في زمننا هذا أجدبت اور بارش کی نوید لانے والی ہواؤں نے اسے وطلقها المبسرات وتركت چھوڑ دیا ہے۔ پھر اللہ کی رحمت اپنی موسلا دھار فجاءت رحمة الله بجودها، بارش کے ساتھ نازل ہوئی اور قحط کا تدارک کیا اور وتداركت وأجادت۔ وأراد الله کمال کر دیا۔ اور اللہ نے اس زمانہ میں چاہا کہ وہ في هذه الأيام أن يميط شوگا ان کانٹوں کو دور کرے جو اسلام کے قدموں کو زخمی تجرح أقدام الإسلام، ويقطع کر رہے ہیں۔ اور وہ اس کی راہ میں آنے والے كل قتاد وقع في سبيله، ويُطهّر هر خار دار درخت کو کاٹ دے۔ اور زمین کو کمینوں الأرض من اللئام ۔ فتقبل أو لا سے پاک کرے۔ پس تو قبول کر یا قبول نہ کر۔ تقبل ۔۔ إني أنا مطر الربيع، وما میں ہی موسم بہار کی بارش ہوں۔ اور میں نے نفسانی ادعيت بهوى النفس بل أُرسلت خواہش سے دعویٰ نہیں کیا بلکہ میں بلا نمونہ من الله البديع، لأطهر الدنيا پیدا کرنے والے اللہ کی طرف سے بھیجا گیا ہوں من أوثانها، وأزكى النفوس تا میں دنیا کو اُس کے بتوں سے اور نفوس کو شہوات من الشهوات وشيطانها۔ ألا ترى اور ان کے شیطان سے پاک کروں ۔ کیا تو اس ما نزل على هذه الملة؟ وكيف افتاد کو نہیں دیکھتا جو اس ملت پر آپڑی ہے اور زادت علل على العلة؟ کیسے ایک خرابی پر خرابیوں کا اضافہ ہو گیا ہے۔