الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 64 of 242

الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 64

ضمیمه حقيقة الوحي ۶۴ الاستفتاء وبشرني في زمن خمولی و ایام اور اس نے مجھے میری گمنامی کے زمانے اور میری وأيام قبولي بأني سأكون مرجع الخلائق قبولیت کے ایام میں بشارت دی کہ میں بہت جلد ولصول الكفرة كالسد العائق، مرجع خلائق بن جاؤں گا اور کافروں کے حملہ کے وأُجلس على الصدر، وأُجعل مقابل ایک مضبوط دیوار بن جاؤں گا۔اور میں للقلوب كالصدر۔يأتوننى من كلّ صدرنشین کیا جاؤں گا اور میں دلوں کے لئے سینہ فج عميق، بالهدايا وبكل ما يليق بنا دیا جاؤں گا۔وہ دور دراز سے میرے پاس هذا وحى من السماء ، من حضرة فوج در فوج تحائف اور قابل قدر ہدیے لے کر الكبرياء ، ما كان حديثًا يُفترى، آئیں گے۔یہ آسمانی وحی ہے جو حضرتِ کبریا ولا كلامًا ينسج من الهوى، بل کی طرف سے ہے کوئی من گھڑت بات نہیں اور نہ وعد من ربي الأعلى۔وكتب و طبع ہی خواہش نفس سے یہ کلام بنا یا گیا ہے بلکہ وأشيع قبل ظهوره فی الوری، میرے بزرگ و برتر خدا کا وعدہ تھا جو اس کے ظہور وأرسل في المدائن والقُرى، ثم سے پہلے ہی تمام دنیا کولکھا گیا اور شائع کیا گیا اور ظهر كشمس الضحى۔وترون اسے شہروں اور بستیوں میں بھیج دیا گیا، پھر وہ الناس يجيئونني فوجا بعد فوج دوپہر کے سورج کی طرح ظاہر ہو گیا، اور تم دیکھتے مع الهدايا التي لا تعد ولا ہو کہ لوگ فوج در فوج اتنے تھے لیکر میرے پاس تحصى۔أليس في ذالک آیة آتے ہیں جو شمار سے باہر ہیں۔کیا اس میں لأولى النهى؟ وإن كنت تحسبني عقلمندوں کے لئے نشان نہیں؟ اور اگر تو مجھے جھوٹا كاذبا فأر الخلق سرى، واكشف سمجھتا ہے تو خلق خدا کے سامنے میرا راز فاش کر سترى واسئل من أهل هذه اور میرا پردہ چاک کر۔اور اس بستی کے رہنے القرية، لعلك تنصر من العدا والوں سے پوچھ شاید تجھے دشمن کی طرف سے مدد وإنما حدثتك بهذا الحديث مل جائے۔میں نے تو تجھے یہ بات بتا دی ہے لعلك تفتش و تهدى۔تا کہ تو تحقیق کر کے صحیح راہ پالے۔۔