الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 64
ضميمه حقيقة الوحي ۶۴ الاستفتاء وبشرني في زمن خمولی و أیام اور اس نے مجھے میری گمنامی کے زمانے اور میری قبولي بأني سأكون مرجع الخلائق قبولیت کے ایام میں بشارت دی کہ میں بہت جلد ولصول الكفرة كالسد العائق، مرجع خلائق بن جاؤں گا اور کافروں کے حملہ کے وأجلس على الصدر، وأُجعل مقابل ایک مضبوط دیوار بن جاؤں گا۔ اور میں للقلوب كالصدر ۔ يأتوننى من كل صدرنشین کیا جاؤں گا اور میں دلوں کے لئے سینہ فج عميق، بالهدايا وبكل ما يليق بنا دیا جاؤں گا ۔ وہ دور دراز سے میرے پاس هذا وحى من السماء ، من حضرة فوج در فوج تحالف اور قابل قدر ہدیے لے کر الكبرياء ، ما كان حديثًا يُفتری، آئیں گے۔ یہ آسمانی وحی ہے جو حضرتِ کبریا ولا كلاما ينسج من الهوى، بل کی طرف سے ہے کوئی من گھڑت بات نہیں اور نہ وعد من ربي الأعلى۔ وكتب و طبع ہی خواہش نفس سے یہ کلام بنا یا گیا ہے بلکہ یہ وأشيع قبل ظهوره في الورى میرے بزرگ و برتر خدا کا وعدہ تھا جو اس کے ظہور وأرسل في المدائن والقرى، ثم سے پہلے ہی تمام دنیا کو لکھا گیا اور شائع کیا گیا اور ظهر کشمس الضحى۔ وترون اسے شہروں اور بستیوں میں بھیج دیا گیا، پھر وہ الناس يجيئوننی فوجا بعد فوج دو پہر کے سورج کی طرح ظاہر ہو گیا، اور تم دیکھتے مع الهدايا التي لا تعد ولا ہو کہ لوگ فوج در فوج اتنے تھے لیکر میرے پاس تحصى۔ أليس في ذالک آیة آتے ہیں جو شمار سے باہر ہیں۔ کیا اس میں لأولى النهى؟ وإن كنت تحسبنی عقلمندوں کے لئے نشان نہیں؟ اور اگر تو مجھے جھوٹا كاذبا فأر الخلق سرّی، واكشف سمجھتا ہے تو خلق خدا کے سامنے میرا راز فاش کر سترى، واسئل من أهل هذه اور میرا پردہ چاک کر۔ اور اس بستی کے رہنے القرية، لعلك تُنصَر من العدا والوں سے پوچھ شاید تجھے دشمن کی طرف سے مدد وإنما حدثتك بهذا الحدیث مل جائے ۔ میں نے تو تجھے یہ بات بتا دی ہے لعلك تفتش وتهدئ۔ تا کہ تو تحقیق کر کے صحیح راہ پالے۔