الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 63
ضمیمه حقيقة الوحي ۶۳ الاستفتاء وتنكرون بعد ظهورها۔ألا اور تم ان کے ظہور کے بعد بھی انکار کر رہے ہو۔تم تفكرون في أمري؟ أسمعتم میرے معاملہ میں کیوں غور وفکر نہیں کرتے۔میرے اسمى قبل ما أنبأ به ربي؟ فإنّى رب کے خبر دینے سے پہلے کیا تم نے میرا نام بھی کبھی ست مستورا كأحد من الأنام سنا تھا۔اور میں لوگوں میں سے ایسے عام شخص کی كنت طرح مخفی تھا جو خواص اور عوام میں کبھی مذکور نہ ہوا ہو غير مذكور في الخواص ولا اور مجھ پر ایک لمبازمانہ گزرا کہ میں کوئی قابل ذکر چیز العوام۔ومضى على دهر ما كنت شيئًا مذكورًا، وكنت أعيش کرجـل اتــخــذه الـنـاس مهجورًا وكانت قريتي أبعد من نہ تھا۔اور میں ایک ایسے شخص کی طرح زندگی گزار رہا تھا کہ جسے لوگ چھوڑ چکے ہوں۔اور میری بستی مسافروں کے قصد سے بہت دور اور نظارہ کرنے والوں کی نظروں میں حقیر ترین جگہ تھی۔جس کے قصد السيّارة، وأحقَرَ في عيون ٹیلوں کے نشان مٹ چکے تھے۔اور جہاں ٹھہرنا النظارة، درست طلولها وكُرِهَ نا پسند کیا جاتا تھا۔اور جس کی برکتیں کم ہوگئیں حلولها، وقلت بركاتها و کثرت تھیں اور جس کی تکالیف و مصائب بڑھ گئے تھے مضراتها ومعراتها؛ والذين اور جو لوگ وہاں ( قادیان میں) رہتے تھے وہ يسكنون فيها كانوا كبهائم، جانوروں کی طرح تھے اور وہ اپنی ظاہری ذلت کی وبذلتهم الظاهرة يدعون اللائم؛ وجہ سے ملامت کرنے والوں کو دعوت دے لا يعلمون ما الإسلام، وما رہے تھے۔وہ نہیں جانتے تھے کہ اسلام کیا ہے القرآن وما الأحكام۔فهذا من اور قرآن کیا ہے اور احکام کیا ہیں۔پس یہ اللہ کی عجائب قضاء الله وغرائب القدرة، عجیب وغریب قضا وقد ر میں سے ہے کہ اُس نے بعثني من مثل هذه الخربة مجھے اس ویرانے میں مبعوث فرمایا تا کہ میں دین لأكون على أعداء الدين كالحربة کے دشمنوں کے لئے برچھی کی مانند بن جاؤں۔