الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 62 of 242

الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 62

ضميمه حقيقة الوحي ۶۲ الاستفتاء ألا ترون أنى كنت عبدًا کیا تمہیں یہ معلوم نہیں کہ میں گوشہ گمنامی میں چھپا مستورًا في زاوية الخمول، بعيدا ہوا ایک بندہ تھا۔ جو اعزاز اور مقبولیت سے اتنا دور من الإعزاز والقبول، لا يُؤْمى إلى تھا کہ میری طرف اشارہ تک نہیں کیا جاتا تھا۔ اور مجھ سے کسی نفع یا نقصان کی امید نہیں رکھی جاتی ولا يشار، ولا يرجى منى النفع تھی۔ اور نہ ہی میں معروف لوگوں میں سے تھا۔ ولا الضرار، وما كنت من پھر میرے رب نے میری طرف وحی کی اور فرمایا کہ المعروفين۔ فأوحى إلى ربّي میں نے تجھے اختیار کیا اور چن لیا۔ پس تو کہہ میں سب سے وقال: إني اخترتك و آثرتك، خدا کی طرف سے مامور ہوں ! وں اور میں سب ۔ ۲۶) فقُل إنى أمرت وأنا أول پہلے ایمان لانے والا ہوں۔ اور اس (اللہ ) نے المؤمنين۔ وقال : أنت منی فرمایا کہ تو مجھ سے ایسا ہے جیسا کہ میری تو حید اور بمنزلة توحيدي و تفریدی تفرید پس وہ وقت آتا ہے کہ تو مدد دیا جائے گا اور فحان أن تعان وتُعرف بين دنیا میں مشہور کیا جائے گا۔ اور اس کثرت سے الناس۔ يأتون من كل فج عميق۔ لوگ تیری طرف آئیں گے کہ جن راہوں پر وہ چلیں گے وہ عمیق ہو جائیں گے۔ تیری مدد وہ لوگ ینصرک رجال نوحى إليهم من السماء ۔ يأتيك من كل فج کریں گے کہ جن کے دلوں میں ہم اپنی طرف سے الہام کریں گے۔ ہر دور کی راہ سے تیرے پاس عميق۔ هذا ما قال ربي، فأنتم تحالف آئیں گے۔“ یہ ہے جو میرے رب نے ترون كيف أرى العون ۔ إن فرمایا۔ پھر تم دیکھتے ہو کہ کس طرح اس نے مدد کر الناس أتتني أفواجًا، وانثالت کے دکھائی ۔ لوگ میرے پاس فوج در فوج آئے اور على الهدايا كأنها بحر تهيج مجھے تحالف اس کثرت سے بھیجے گئے گویا کہ وہ ایک في كل آن أمواجا ۔ هذه آيات سمندر ہے جو ہر آن ٹھاٹھیں مار رہا ہے۔ یہ اللہ کے الله لا تنظرون إلى نورها نشانات ہیں جن کے نور کو تم دیکھ نہیں رہے۔