الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 3 of 242

الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 3

ضميمه حقيقة الوحى الاستفتاء ثم يسبّون دين الله وخير الأنام، مزید برآں وہ (پادری) اللہ کے دین اور خیر الا نام اصلى الله عروسة۔ وهذا أشد المصائب على (حضرت محمد مصطفی ﷺ کو گالیاں دیتے ہیں، اور یہ الإسلام۔ والدين الذی قائم علی اسلام پر ایک نہایت شدید مصیبت ہے۔ اور ایسا خشب لا حاجة إلى تحقيقه، ولا جو محض ایک لکڑی پر قائم ہو اُس کی تحقیق کی کوئی دین جو يهدى العقل إلى تصديقه، بل ضرورت نہیں ، اور نہ عقل اس کی تصدیق کی طرف تعافه فطرة طيبة، وتفرّ من هذا رہنمائی کرتی ہے۔ بلکہ پاک فطرت اس سے الحديث، وتطلق بطلاق ثلاث نفرت کرتی اور ایسی باتوں سے بھاگتی ہے اور مذهب التثليث ۔ وأما صعود تثلیث کے مذہب کو تین طلاقیں دیتی ہے اور رہا عیسی ونزوله فهو أمر يكذبه العقل وكتاب الله القرآن، وما هو إلَّا كَتَعِلَّةٍ تُنام بها الصبيان، أو كالتماثيل التي تلعب بها (حضرت) عیسیٰ “ کے صعود اور نزول کا مسئلہ تو اسے عقل اور اللہ کی کتاب قرآن جھٹلاتی ہے۔ اور وہ محض ایک لوری کی طرح ہے جس سے بچوں کو سلایا جاتا ہے یا گڑیاں ہیں جن سے لڑکیاں اور الجوارى والغلمان۔ ما قام عليه لڑکے کھیلتے ہیں۔ جس پر نہ تو کوئی دلیل قائم ہوئی دليل وما شهد عليه برهان۔ فخلاصة الكلام أن هذا المدعى ہے اور نہ کسی برہان نے اس کی گواہی دی۔ پس ظهر في هذه الأيام، عند كثرة خلاصہ کلام یہ کہ یہ مدعی اس زمانے میں ظاہر ہوا الفتن وكثرة البدعات وضعف جس میں فتنوں اور بدعات کی کثرت تھی اور اسلام الإسلام۔ پر ضعف طاری تھا۔ وما وجد في أحواله قبل هذا الدعوى نیز اس دعوئی سے پہلے اس کے احوال میں جھوٹ شيء من عادة الكذب والافتراء اور افترا کی کسی عادت کا شائبہ تک نہیں پایا گیا۔ نہ لا في زمن الشيب ولا في زمن الفتاء بڑھاپے کے زمانے میں اور نہ جوانی کے عالم میں ۔