الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 53
ضميمه حقيقة الوحي ۵۳ الاستفتاء ما كان لعبد أن يفترى على الله کسی بندہ کے لئے یہ ممکن نہیں کہ وہ اللہ پر افترا ثم ينصره الله كالمقبولين۔ فإن کرے پھر بھی اللہ اس کی ایسے مدد کرے جس مِنْ هذا يُرفع الأمان ويشتبه الأمر طرح مقبول بندوں کی مددفرماتا ہے۔ اس طرح تو دنیا سے امان اٹھ جائیگی اور معاملہ مشتبہ اور ایمان ويتزلزل الإيمان، وفيه بلاء للطالبين۔ أتزعمون أن رجلا منتزلزل ہو جائے گا اور اس میں ( حق ) کے طالبوں کے لئے بڑی آزمائش ہے۔ کیا تم خیال کرتے يفترى على الله كل ليل و نهار جو کہ ایک شخص ہر رات دن اورصبح وشام اللہ پر اترا ہو و آصال وأبكار ويقول يوحى إلى کرتا ہے اور کہتا ہے کہ مجھ پر وحی کی جاتی ہے وما أوحى إليه شيء ، ثم ينصره حالانکہ اس کی طرف کچھ بھی وحی نہیں کیا گیا، پھر بھی ربه كما ينصر الصادقين؟ أهذا اس کا رب اس کی ایسی مدد کرتا ہے جیسی مدد وہ أمر يقبله العقل السليم؟ ما لكم صادقوں کی کرتا ہے۔ کیا عقل سلیم یہ بات قبول کر لا تفكرون كالمتقين؟ أبقيت سکتی ہے؟ تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم متقیوں کی طرح لكم دجالون۔۔ وأين المجدّدون غور و فکر نہیں کرتے کیا تمہارے لئے دجال ہی رہ والمصلحون، وقد أكل الدين گئے ہیں اور مجدد اور مصلح کہاں گئے ؟ حالانکہ حالانا کفر دود الكفر ۔۔ ألا تنظرون؟ کے کیڑے دین کو کھا گئے ہیں ۔ کیا تم دیکھتے نہیں؟ ألا ترون علماء النصارى كيف کیا تم نہیں دیکھتے کہ عیسائیوں کے علماء کس طرح يخدعون الجهال، ويلمعون جاہلوں کو دھوکا دے رہے ہیں اور اقوال اور اعمال کو الأقوال والأعمال، لعلهم دلفريب شكل میں پیش کرتے ہیں تا کہ وہ (ان کی يرجعون؟ وإن الله أنزل لكم طرف رجوع کریں۔ اور اے عقلمندو! اللہ نے حجة عليهم، فلم لا تنتفعون تمہارے لئے ان کے خلاف ایک حجت نازل فرمائی بحجته أيها العاقلون ؟ پھر تم اس کی حجت سے کیوں فائدہ نہیں اٹھاتے۔