الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 53 of 242

الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 53

ضمیمه حقيقة الوحي ۵۳ الاستفتاء يـفـتــرى عـلـى الله كلّ ليل ونهار ما كان لعبد أن يفترى على الله | کسی بندہ کے لئے یہ ممکن نہیں کہ وہ اللہ پر افترا ثم ينصره الله كالمقبولين۔فإن کرے پھر بھی اللہ اس کی ایسے مدد کرے جس مِنْ هذا يُرفع الأمان ويشتبه الأمر طرح مقبول بندوں کی مددفرماتا ہے۔اس طرح تو دنیا سے امان اٹھ جائیگی اور معاملہ مشتبہ اور ایمان ويتزلزل الإيمان، وفيه بلاء متزلزل ہو جائے گا اور اس میں ( حق ) کے طالبوں للطالبين۔أتزعمون أن رجلا کے لئے بڑی آزمائش ہے۔کیا تم خیال کرتے ہو کہ ایک شخص ہر رات دن اور صبح وشام اللہ پر افترا و آصال وأبكار ويقول يوحى إلى کرتا ہے اور کہتا ہے کہ مجھ پر وحی کی جاتی ہے وما أوحى إليه شيء ، ثم ينصره حالانکہ اس کی طرف کچھ بھی وحی نہیں کیا گیا، پھر بھی ربه كما ينصر الصادقين؟ أهذا اس کا رب اس کی ایسی مدد کرتا ہے جیسی مدد وہ أمر يقبله العقل السليم؟ ما لكم صادقوں کی کرتا ہے۔کیا عقل سلیم یہ بات قبول کر لا تفگرون کالمتقين؟ أبقيت سکتی ہے؟ تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم متقیوں کی طرح لكم دجالون۔۔وأين المُجدّدون غور و فکر نہیں کرتے کیا تمہارے لئے دجال ہی رہ والمصلحون، وقد أكل الدین گئے ہیں اور مجدد اور مصلح کہاں گئے ؟ حالانکہ کفر دود الكفر۔۔ألا تنظرون؟ کے کپڑے دین کو کھا گئے ہیں۔کیا تم دیکھتے نہیں؟ ألا ترون علماء النصارى كيف کیا تم نہیں دیکھتے کہ عیسائیوں کے علماء کس طرح يخدعون الجهال، ويلمعون جاہلوں کو دھوکا دے رہے ہیں اور اقوال اور اعمال کو الأقوال والأعمال، لعلهم دلفریب شکل میں پیش کرتے ہیں تا کہ وہ (ان کی يرجعون؟ وإن الله أنزل لكم طرف رجوع کریں۔اور اے عقلمندو! اللہ نے حجة عليهم، فلم لا تنتفعون تمہارے لئے ان کے خلاف ایک حجت نازل فرمائی بحجته أيها العاقلون؟ پھر تم اس کی حجت سے کیوں فائدہ نہیں اٹھاتے۔