الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 52 of 242

الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 52

ضمیمه حقيقة الوحي ۵۲ الاستفتاء وصار كدار ليس فيها أهلها، أو اور اس کے محلات ویرانوں میں بدل گئے ہیں اور كوَقْبَةِ مَشارِ ما بقى فيها إِلَّا وہ ایک ایسے گھر کی طرح ہو گیا جس کے رہنے نحلها۔فكيف تظنون أن الله ما والے اس میں نہیں ہیں یاوہ ایسا شہد کا چھتا ہے جس أرسل مجددًا فى هذا الزمان میں صرف اس کی مکھیاں رہ گئی ہیں۔تم یہ کیسے خیال وكان وقت نزول المائدة لا کرتے ہو کہ اللہ نے اس زمانے میں کوئی مجدد وقت رفع الخوان وكيف نہیں بھیجا جبکہ یہ وقت ( آسمانی ) مائدہ کے نزول کا تزعمون أن الله الكريم عند وقت تھا نہ کہ اس ( دستر خوان ) کے اٹھائے جانے ازدحام هذه البدعات وسیل کا۔اور تم یہ کیسے خیال کرتے ہو کہ اللہ کریم نے ان السيّئاتِ، ما أراد إصلاح الخلق، بدعتوں کے ہجوم اور برائیوں اور بدیوں کے سیلاب بل سلّط على المسلمين دجال کے وقت اصلاح خلق نہیں چاہی بلکہ مسلمانوں پر (۲۲) منهم ليهلكهم بسم الضلالات؟ انہیں میں سے ایک دجال کو مسلط کر دیا تا وہ انہیں أكان دجل النصاری قلیلا غیر گمراہیوں کے زہر سے ہلاک کرے۔کیا عیسائیوں تام في الإضلال، فكمله الله بهذا کا دجل گمراہ کرنے میں کچھ کم اور نا تمام تھا کہ اللہ نے اس دجال کے ذریعہ اسے مکمل کیا۔فوالله ليس هذا الرأى من عين اللہ کی قسم ! یہ عقل اور بصیرت کے چشمہ سے نکلی الدجال؟ العقول والأبصار، بل هو صوت ہوئی رائے نہیں بلکہ یہ آواز گدھے کی آواز سے بھی أنكر من صوت الحمار، وأضعف زیادہ بری ہے اور اونٹنی کے (چھوٹے) بچے کی من رجع الحوار۔ثم مع ذالک آواز سے بھی زیادہ کمزور ہے۔پھر اس کے باوجود كيف نزلت الآيات تترى لتأييد ایک ایسے شخص کی تائید کے لئے لگا تار نشانات رجل يعلمه الله أنه من المفترين؟ کیسے نازل ہو گئے جس شخص کے متعلق اللہ جانتا ہے أليس فيكم شيء من تقوی کہ وہ مفتری ہے۔اے منکروں کی جماعت ! کیا القلوب يا معشر المنکرین؟ تم میں دلوں کے تقویٰ کی کوئی رمق باقی نہیں رہی۔