الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 51 of 242

الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 51

ضميمه حقيقة الوحي ۵۱ الاستفتاء ألا ترون كيف اتفقت الأمم علی کیا تم نہیں دیکھتے کہ تمام اقوام اس ملت خلاف هذه الملة، وصالوا عليه (اسلامیہ ) کے خلاف کیسے متفق ہو گئیں ہیں۔ اور متفقين كسباع تخرج من انہوں نے ایک ہو کر ان درندوں کی طرح اس پر الأجمة الواحدة، وبقى الإسلام حملہ کر دیا ہے جو درختوں کے ایک ہی جھنڈ سے كوحيد طريد، وصار غَرَضَ كل باہر نکل آتے ہیں ۔ اور اسلام ایک تنہا دھتکارے مريد، وللأغيار عيد، وقمرنا ہوئے شخص کی طرح ہو گیا ہے۔ اور وہ ہر سرکش ذو القعدة ، قعدنا كالمنهزمین کا نشانہ بن گیا ہے۔ اور اغیار کی عید ہے اور ہمارا من الكفرة بكمال الخوف چاند ذوالقعدہ کا ہے۔ ہم لرزاں وتر ساں کافروں والرعدة، وهم يطعنون في ديننا سے شکست خوردہ (افراد) کی طرح بیٹھے ہیں اور ولا كطعن الصعدة؟ فعند وہ ہمارے دین پر طعن کر رہے ہیں لیکن ( ان کی ) ذالك بعثني ربي على رأس یہ طعنہ زنی ) نیزہ زنی کی طرح نہیں ( بلکہ اس المائة۔ أتزعمون أنه أرسلني من سے شدید تر ہے)۔ ایسے وقت میں میرے رب غير الضرورة؟ ووالله إني أرى نے مجھے صدی کے سر پر مبعوث فرمایا۔ کیا تم خیال أن الضرورة قد زادت من زمان کرتے ہو کہ اس نے مجھے بلا ضرورت بھیج دیا ہے؟ سبق، وولى الإقبال کغلام اللہ کی قسم میں دیکھ رہا ہوں کہ یہ ضرورت زمانہ أبق۔ وكان الإسلام كرجل گذشتہ سے کہیں بڑھ گئی ہے اور خوش بختی لطيف البنية، مليح الحلية، بھگوڑے غلام کی طرح منہ پھیر کے چلی گئی ہے۔ والآن ترى على وجهه سواد اور اسلام ایک ایسے شخص کی طرح تھا جس کی البدعات، وقروح المحدثات بناوٹ عمدہ اور چہرہ خوبصورت تھا مگر اب تو اس ونقل إلى الغث سمينه، وإلى کے چہرہ پر بدعات کی سیاہی اور رسومات کے زخم الكدر معينه، وإلى الظلمات دیکھے گا ۔ اسلام کا صحت مند جسم کمزور ، اس کا نوره، وإلى الأخربة قصوره صاف چشمه گدلے پانی اور اس کا نور تاریکیوں میں