الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 48 of 242

الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 48

ضميمه حقيقة الوحي ۴۸ الاستفتاء وأوصل سهمه إلى ما رمى۔ اور اس کے چلائے ہوئے تیر کو ٹھیک اس کے وجعــل الـدنـيـا كـامة له تأتيه من نشانے تک پہنچایا اور اس نے دنیا کو اس کے لئے غیر شُح وهوى، وفتح عـلـيـه لونڈی کی طرح بنا دیا جبکہ کہ وہ اس کے پاس أبواب كل نعمة وأوى وربي۔ کسی حرص ولالچ کے بغیر آتی ہے۔ اور اس نے اس پر ہر نعمت کے دروازے کھول دیئے اور اسے وعلمه من لدنه وأعثره على المعارف العليا۔ وقد جاء كم ہر مصیبت سے پناہ دی اور پرورش فرمائی اور اپنی جناب سے اسے سکھایا اور معارف عالیہ سے اسے على وقت مُسمّى۔ فما تقولون اطلاع بخشی اور وہ معین وقت پر تمہارے پاس آیا۔ في هذا الرجل؟ هل هو صادق أو پس تم اس شخص کے بارہ میں کیا کہتے ہو۔ کیا وہ سچا كاذب، ومن أين منبت هذا ہے یا جھوٹا ؟ اور اس فضل کا سر چشمہ کہاں ہے؟ اللہ الفضل؟ أأعطاه الله ما أعطى، أم نے اسے دیا جو دیا۔ کیا شیطان ان عظیم باتوں پر الشيطان قادر على هذه الأمور قادر ہے؟ صاف صاف بیان کرو تم اجر دیئے جاؤ العظمى؟ بینوا توجروا ۔۔ واتقوا گے اور اس فیصلہ کے دن سے ڈرو جو ہر پوشیدہ يوم الفصل الذي يُظهر ما يخفی بات کو ظاہر کر دے گا۔ الباب الثاني المُسْتَفْتِي وأنا المدعى۔ وما أتكلم بحجاب بل أنا على دوسرا باب اسمعوا، يا سادة - هداكم الله سادات کرام ! اللہ سعادت کی راہوں کی إلى طرق السعادة - أنى أنا طرف تمہاری رہنمائی فرمائے ۔ غور سے سنو کہ میں ہی فتوای طلب کرنے والا ہوں اور میں ہی مدعی ہوں ۔ میں کسی حجاب سے بات نہیں کرتا بلکہ میں وہاب خدا کی طرف سے بصیرت بصيرة من ربّ وهاب۔ بعثني الله پر قائم ہوں ۔ اللہ نے مجھے اس صدی کے سر پر على رأس المائة، لأجدد الدين مبعوث فرمایا ہے تا میں دین کی تجدید کروں