الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 44 of 242

الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 44

ضميمه حقيقة الوحي ママ الاستفتاء ووضع له قبولا في الأرض، اور اس (اللہ ) نے اس کے لئے زمین میں قبولیت فيسعى إليه الخلق فی اللیل رکھ دی چنانچہ مخلوق شب وروز اس کی طرف دوڑی والنهار۔ وجذب الله إليه كثيرًا چلی آرہی ہے اور اللہ بکثرت ایسے اہل بصیرت من أولى الأبصار، الذین کو اس کی طرف کھینچ کر لے آیا جو پاک نفس ، لهم نفوس مطهرة وطبائع سعید فطرت، صاف دل اور سمندر کی طرح کھلے سعيدة، وقلوب صافية، وصدور سینوں والے تھے۔ اور اللہ نے ان کے اندر منشرحة كالبحار، وجعل باہمی محبت و رحمت پیدا کر دی اور ان کے سینوں سے بينهم مودة ورحمة، وأخرج من ہر طرح کی رعونت اور تکبر نکال دیا اور اس نے صدورهم كل رعونة و استكبار اسے ان امور کی ایسے وقت میں اطلاع دی جس و أنبأه به في وقت لم يكن فيه هذا وقت یه بنده کوئی قابل ذکر چیز نہ تھا۔ اور یہ نصرت العبد شيئًا مذكورًا، وكانت هذه ایک سر نہاں تھی اور اس نے اسے سچائی کا عصا عطا النصرة سرا مستورا۔ وأعطاه کیا جس سے وہ دشمنوں کو رسوا کرتا ہے پس اس عصا صدق يخزى بها العداء (عصا) نے باہمی خفیہ مشورہ سے تیار کردہ منصوبے فتلقفت ما صنعوا من حَيَواتِ کے تراشیدہ سانپوں کو نگل لیا اور اس (خدا) نے كيد نحتوه بالنجوى۔ ووعد أنه وعده فرمایا کہ وہ ہر اس شخص کو جو اس ( مدعی ) کی يهين من أراد إهانته، فأدرک رسوائی کا ارادہ کرے گا رسوا کرے گا۔ سو جس نے الهوان من أهان واستعلى۔ إنهم اہانت کی اور تکبر کیا اسے رسوائی نے اپنی گرفت كانوا يكذبون من غير علم میں لے لیا۔ وہ بغیر کسی علم کے جھٹلاتے رہے وقلوبهم في غمرة من أهواء جبکہ ان کے دل دنیا کی خواہشات کی وجہ سے الدُّنيا، وكانوا ينظرون إلى غفلت کے عالم میں تھے ۔ اور وہ الہی سلسلہ سلسلة الله مغاضبًا، ويُؤْذُون کو غصہ سے دیکھتے تھے اور بندگان خدا کو اپنی عباد الله بحديث يفتری مفتر یا نہ باتوں سے اذیت پہنچاتے تھے۔