الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 44
ضمیمه حقيقة الوحي ۴۴ الاستفتاء ووضع له قبولا في الأرض، اور اس (اللہ ) نے اس کے لئے زمین میں قبولیت فيسعى إليه الخلق فی اللیل رکھ دی چنانچہ مخلوق شب و روز اس کی طرف دوڑی والنهار۔وجذب الله إليه كثيرًا چلی آرہی ہے اور اللہ بکثرت ایسے اہل بصیرت من أولى الأبصار، الذین کو اس کی طرف کھینچ کر لے آیا جو پاک نفس ، لهم نفوس مطهرة وطبائع سعيد فطرت، صاف دل اور سمندر کی طرح کھلے سعيدة، وقلوب صافية، وصدور سینوں والے تھے۔اور اللہ نے ان کے اندر منشرحة كالبحار، وجعل باہمی محبت و رحمت پیدا کر دی اور ان کے سینوں سے بينهم مودة ورحمة، وأخرج من ہر طرح کی رعونت اور تکبر نکال دیا اور اس نے صدورهم كل رعونة و استكبار اسے ان امور کی ایسے وقت میں اطلاع دی جس و أنبأه به في وقت لم يكن فيه هذا وقت یہ بندہ کوئی قابل ذکر چیز نہ تھا۔اور یہ نصرت العبد شيئًا مذكورًا، وكانت هذه ايك سر نہاں تھی اور اس نے اسے سچائی کا عصا عطا النصرة سرًّا مستورا۔وأعطاه کیا جس سے وہ دشمنوں کو رسوا کرتا ہے پس اس عصا صدق يخزى بها العداء (عصا) نے باہمی خفیہ مشورہ سے تیار کردہ منصوبے فتلقفت ما صنعوا من حَيَواتِ کے تراشیدہ سانپوں کو نگل لیا اور اس (خدا) نے کید نحتوه بالنجوى۔ووعد أنه وعده فرمایا کہ وہ ہر اس شخص کو جو اس ( مدعی ) کی يهين من أراد إهانته، فأدرك رسوائی کا ارادہ کرے گا رسوا کرے گا۔سو جس نے الهوان من أهان و استعلى إنهم اہانت کی اور تکبر کیا اسے رسوائی نے اپنی گرفت کانوا يكذبون من غير علم میں لے لیا۔وہ بغیر کسی علم کے جھٹلاتے رہے وقلوبهم في غَمُرة من أهواء جبکہ ان کے دل دنیا کی خواہشات کی وجہ سے الدنيا، وكانوا ينظرون إلى غفلت کے عالم میں تھے۔اور وہ الہی سلسلہ سلسلة الله مغاضبًا، ويُؤذُون کو غصہ سے دیکھتے تھے اور بندگان خدا کو اپنی عباد الله بحدیث ،یفترای مفتر یانہ باتوں سے اذیت پہنچاتے تھے۔