الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 40
ضميمه حقيقة الوحي ۴۰ الاستفتاء وليس مُراده من النبوة إلا كثرة اور نبوت سے اس کی مراد محض اللہ کا کثرت سے مكالمة الله وكثرة انباء من الله کلام کرنا اور کثرت سے غیب کی خبریں دینا اور وكثرة ما يوحى۔ ويقول ما نعنى کثرت سے وحی کرنا ہے۔ اور وہ کہتا ہے کہ نبوت من النبوة ما يُعنى في الصحف سے ہماری مراد وہ نہیں جو پہلے صحیفوں میں لی گئی الأولى، بل هي درجة لا تُعطى إلا ہے۔ بلکہ یہ وہ مرتبہ ہے جو ہمارے نبی خیر الوریٰ صلى الله عل وسلام من اتباع نبينا خير الورى۔ وكل ﷺ کی اتباع کے بغیر نہیں دیا جاتا اور ہر وہ شخص جسے یہ مرتبہ حاصل ہو جائے تو اللہ اس شخص سے من حصلت له هذه الدرجة ۔۔ یہ ذالك الرجل بكلام بکثرت اور نہایت صفائی سے کلام کرتا ہے۔ اور يكلم الله ذالک أكثر وأجلى، والشريعة تبقى بحالها ۔۔ لا ينقص منها حكم ولا تزيد هدى۔ ويقول إنّي أحد من الأمة النبوية، ثم مع ذالك سماني الله نبيا تحت فيض شریعت اپنی حالت پر برقرار رہتی ہے۔ نہ اس میں سے کوئی حکم کم ہوتا ہے اور نہ کسی ہدایت کا اضافہ ہوتا ہے اور وہ یہ کہتا ہے کہ میں ملت نبوی کا ایک فرد ہوں اور اس کے باوجود اللہ نے صلى الله علی کے ہی انوار اور پ علیه ۔ نبوت محمدیہ کے فیض کے تحت میرا نام نبی رکھا ہے۔ اور اللہ نے میری طرف وحی کیا جو بھی النبوة المحمدية، وأوحى إلى وجی کیا۔ پس میری نبوت اسی کی نبوت ہے۔ اور ما أوحى۔ فليست نبوّتي إلَّا میرے جبہ میں صرف آر نبوّته، وليس في جبتي إلا أنواره شعاعیں ہیں اور اگر آپ نہ ہوتے تو میں کوئی ایسی وأشعته، ولولاه لما كنت شيئًا چیز نہ تھا جس کا ذکر کیا جاتا یا جس کا نام لیا جاتا۔ اور يذكر أو يسمى۔ وإنّ النبي ہر نبی اپنی فیض رسانی سے پہچانا جاتا ہے۔ تو کیا يُعرَف بإفاضته، فكيف نبينا الذى شان ہو گی ہمارے نبی کی جو تمام انبیاء سے افضل اور هو أفضل الأنبياء وأزيدهم في فيض رسانی میں ان سب ( انبیاء ) سے بڑھے ہوئے الفيض، وأرفعهم في الدرجة وأعلى؟ ہیں ۔ اور مرتبہ میں ان سب سے ارفع و اعلیٰ ہیں۔