الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 39
ضميمه حقيقة الوحي ۳۹ الاستفتاء واستجاب دعواته في الأحباب اور اللہ نے دوستوں اور دشمنوں کے بارہ میں اس کی دعائیں قبول فرمائیں۔ اور یہ بندہ نبی کریم وفي العدا۔ ولا يقول هذا العبد إلا ما قال النبي صلى الله عليه صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودات کے سوا کچھ نہیں کہتا۔ اور ہدایت کے راستے سے ایک قدم بھی باہر وسلم، ولا يُخرج قدما من نہیں نکالتا اور وہ کہتا ہے کہ اللہ نے اپنی وحی میں الهدى۔ ويقول إن الله سماني نبيًّا میرا نام نبی رکھا ہے اور اسی طرح اس سے پہلے بوحيه، وكذالك سُمِّيتُ من قبل ہمارے رسول ( محمد ) مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی على لسان رسولنا المصطفى زبان مبارک ) سے مجھے یہ نام عطا کیا گیا ۔ ☆ الحاشية۔ وإن قال قائل : كيف يكون اگر کوئی کہنے والا یہ کہے کہ اس امت میں سے کوئی نبی کیسے ہو نبي من هذه الأمة وقد ختم الله علی النبوة؟ سکتا ہے جبکہ اللہ نے نبوت پر مہر لگا دی ہے؟ تو جواب یہ ہے کہ اللہ عز فالجواب ۔ إنه عزّ وجلّ ما سمى هذا الرجل وجل نے اس شخص کا نام نبی صرف اور صرف اس لئے رکھا تا کہ وہ نبيا إلا لإثبات كمال نبوّة سيدنا خير البرية، ہمارے سید و مولی خیر الوریٰ ﷺ کی نبوت کے کمال کو ثابت کرے فإن ثبوت كمال النبى لا يتحقق إلا بثبوت کیونکہ آنحضرت ﷺ کی نبوت کا کمال امت کے کمال کے ثبوت كمال الأمة، ومن دون ذالک ادعاء محض کے بغیر متحقق نہیں ہوتا۔ اس کے بغیر یہ محض دعوٹی ہے جس پر اہل عقل لا دليل عليه عند أهل الفطنة۔ ولا معنى لختم کے نزدیک کوئی دلیل نہیں۔ کسی فرد پر نبوت کے ختم ہونے کے اس النبوة على فرد من غير أن تُختتم كمالات النبوة على ذالك الفرد، ومن الكمالات العظمى كمال النبي في الإفاضة، وهو لا يثبت من غير نموذج يوجد في الأمة۔ ثم مع ذالك ذكرت غير مرة أن الله ما أراد من نبوّتي إلا كثرة کے سوا کوئی معنی نہیں کہ اس فرد پر نبوت کے کمالات اپنی انتہا کو پہنچیں اور نبی کا فیض رسانی کا کمال نبوت کے عظیم کمالات میں سے ہے۔ اور یہ کمال امت میں موجود نمونے کے بغیر ثابت نہیں ہو سکتا۔ اور اس کے ساتھ ساتھ میں نے بار بار ذکر کیا ہے کہ میری نبوت سے المكالمة والمخاطبة، وهو مُسَلَّم عند أكابر اللہ کی مراد صرف کثرت مکالمہ و مخاطبہ ہے (اس کے سوا کچھ نہیں ) أهل السنة۔ فالنزاع ليس إلا نزاعا لفظيًّا۔ اور یہ اہل سنت کے اکابرین کے ہاں مسلم ہے۔ پس یہ نزاع محض فلا تستعجلوا يا أهل العقل والفطنة۔ ولعنة لفظی نزاع ہے۔ لہذا اے اہل عقل و دانش ! جلد بازی سے کام نہ لو۔ الله على من ادعى خلاف ذالک مثقال ذرة اور اللہ کی اور اللہ کی لعنت ہو اس پر جو ذرہ بھر اس کے خلاف دعوی کرے اور اس کے ساتھ تمام لوگوں اور فرشتوں کی لعنت بھی ہو ۔ منہ ومعها لعنة الناس والملائكة۔