الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 36 of 242

الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 36

ضمیمه حقيقة الوحي ۳۶ الاستفتاء وتمنوا أن يروا ذلّته و خزیه، اور انہوں نے تمنا کی کہ وہ اس کی ذلت و رسوائی فأكرمه الله إكراما عجبًا، وزاد دیکھیں لیکن اللہ نے اس کا غیر معمولی اکرام فرمایا اور الدرجات۔والعجب كل العجب درجات بڑھائے۔تعجب کی انتہا یہ ہے کہ وہ گالیاں أنهم يسبّون ويشتمون، وهم من دیتے اور بُرا بھلا کہتے ہیں حالانکہ وہ حقیقت سے الحقيقة غافلون۔وإذا قيل لهم غافل ہیں۔اور جب انہیں کہا جائے کہ اسی طرح ایمان لاؤ جس طرح دوسرے لوگ ایمان لائے ہیں آمنوا كما آمن الناس قالوا أنؤ من تو کہتے ہیں کہ کیا ہم اس طرح ایمان لائیں جس کما آمن السفهاء ، ألا إنهم هم طرح بے وقوف (لوگ) ایمان لائے ہیں۔یادرکھو السفهاء ولكن لا يشعرون۔لا وہ خود ہی بے وقوف ہیں مگر وہ اس بات کا شعور نہیں يفكرون في فعل الله وفيما عامل رکھتے۔وہ اللہ کے فعل اور اس کے اپنے بندہ سے سلوک پر غور نہیں کرتے۔کیا افتراء کرنے والوں کی يفترون؟ إن الذين يفترون یہی جزا ہوا کرتی ہے؟ یقیناً جو لوگ افتراء کرتے ہیں لعنوا في الدنيا والآخرة وهم لا بعبده۔أهذا جزاء الذين هم دنیا اور آخرت میں ان پر لعنت کی گئی ہے اور ان کی مدد يُنصرون۔ما لهم حظ من الدنيا نہیں کی جاتی۔ان کے لئے دنیا میں سے کوئی حصہ إلا قليل، ثم يموتون برجز من نہیں مگر معمولی، پھر وہ اللہ کے عذاب سے مرجاتے الله تأخذهم من فوقهم ومن ہیں جوانہیں اوپر سے اور ان کے قدموں کے نیچے سے تحت أرجلهم، ومن يمينهم اور دائیں بائیں سے آلیتا ہے۔اور جو اعمال وہ بجا ويسارهم، ويوفّى لهم ما كانوا لاتے تھے انہیں ان کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔اور يعملون۔وما أرسل نبی صادق کوئی سچا نبی مبعوث نہیں ہوا مگر اللہ نے اس کی وجہ سے إلَّا أخزى به الله قوما لا يؤمنون ایمان نہ لانے والی قوم کو رسوا کیا۔وہ اس کی موت کا يتربصون به المنون، ولا یھلک انتظار کرتے ہیں حالانکہ ہلاک ہونے والے ہی إلا الهالكون۔ہلاک کئے جاتے ہیں۔