الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 36
ضميمه حقيقة الوحى ۳۶ الاستفتاء وتمنوا أن يروا ذلته وخزيه، اور انہوں نے تمنا کی کہ وہ اس کی ذلت و رسوائی فأكرمه الله إكرامًا عجبًا، وزاد دیکھیں لیکن اللہ نے اس کا غیر معمولی اکرام فرمایا اور الدرجات۔ والعجب كل العجب درجات بڑھائے۔ تعجب کی انتہا یہ ہے کہ وہ گالیاں أنهم يسبّون ويشتمون، وهم من دیتے اور بُرا بھلا کہتے ہیں حالانکہ وہ حقیقت سے غافل ہیں۔ اور جب انہیں کہا جائے کہ اسی طرح الحقيقة غافلون۔ وإذا قيل لهم آمنوا كما آمن الناس قالوا أنؤمن ایمان لاؤ جس طرح دوسرے لوگ ایمان لائے ہیں تو کہتے ہیں کہ کیا ہم اس طرح ایمان لائیں جس كما آمن السفهاء ، ألا إنهم هم السفهاء ولكن لا يشعرون ۔ لا يفكرون في فعل الله وفيما عامل بعبده۔ أهذا جزاء الذين هم طرح بے وقوف (لوگ) ایمان لائے ہیں ۔ یاد رکھو وہ خود ہی بے وقوف ہیں مگر وہ اس بات کا شعور نہیں رکھتے ۔ ۔ وہ اللہ کے فعل اور اس کے اپنے سلوک پر غور نہیں کرتے ۔ کیا افتراء کرنے والوں کی بندہ سے يفترون؟ إن الذين يفترون یہی جزا ہوا کرتی ہے؟ یقیناً جو لوگ افتراء کرتے ہیں لعنوا في الدنيا والآخرة وهم لا دنیا اور آخرت میں ان پر لعنت کی گئی ہے اور ان کی مدد يُنصرون۔ ما لهم حظ من الدنيا نہیں کی جاتی ۔ ان کے لئے دنیا میں سے کوئی حصہ إلا قليل، ثم يموتون برجز من نہیں مگر معمولی، پھر وہ اللہ کے عذاب سے مر جاتے الله تأخذهم من فوقهم ومن ہیں جو انہیں اوپر سے اور ان کے قدموں کے نیچے سے تحت أرجلهم، ومن يمينهم اور دائیں بائیں سے آلیتا ہے۔ اور جو اعمال وہ بجا ويسارهم، ويوفي لهم ما كانوا لاتے تھے انہیں ان کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا ۔ اور يعملون۔ وما أرسل نبی صادق کوئی سچا نبی مبعوث نہیں ہوا مگر اللہ نے اس کی وجہ سے إلا أخزى به الله قوما لا يؤمنون۔ ایمان نہ لانے والی قوم کو رسوا کیا۔ وہ اس کی موت کا يتربصون به المنون، ولا يهلک انتظار کرتے ہیں حالانکہ ہلاک ہونے والے ہی إلا الهالكون۔ ہلاک کئے جاتے ہیں۔