الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 28
ضمیمه حقيقة الوحي ۲۸ الاستفتاء فبعث الله آدم آخر الزمان فی تلک اس لئے اللہ نے آدم آخر الزمان کو اس سرزمین الأرض إظهارا للمناسبة، ليوصل (ہند) میں مبعوث فرمایا مناسبت کو ظاہر کرنے کے الآخر بالأوّل ويتم دائرة الدعوة کما لئے۔تا آخر کو اول سے ملا دے اور دعوت کے هو كان مقتضى الحق والحكمة دائرہ کو مکمل کیا جائے جیسا کہ حق و حکمت کا تقاضا فالآن استدار الزمان على هيئته تھا۔سو اب زمانہ گھوم کر اپنی شکل پر آگیا جس کی صلى الله كما أشار إليه خير البرية، ووصلت طرف خير البریہ علیہ نے اشارہ فرمایا تھا۔اور یوں نقطته الأخرى بنقطته الأولى فى اس مبارک سرزمین ( ہند ) میں آخری نقطہ پہلے هذه الأرض المباركة، وطلعت نقطے سے مل گیا۔اور آفتاب مشرق سے طلوع ہو گیا الشمس من المشرق و کذالک کان اور اللہ کے پاک نوشتوں میں ایسا ہی لکھا تھا تا کہ مكتوبًا في صحف الله المقدسة، اس سے وہ لوگ تسلی پائیں جن کے آنسو ظلمت کو ليطمئن بها قوم كانوا لا يرقاً دمعُهم دیکھ کر تھمتے نہیں تھے۔پس ان کے رخساروں سے عند رؤية الظلمة۔فظهرت المسرة مسرت ظاہر ہوتی ہے اور وہ اس سے خوش ہو جاتے في وجناتهم وهم بها يفرحون۔وأماط ہیں۔اور اللہ نے ان کے راستے سے شبہات کے الله شوك الشبهات من طريقهم فهم کانٹے دور کر دیئے ہیں پس وہ سکینت کے ساتھ بالسكينة يسلكون۔ونقلوا من الفلاة چل رہے ہیں اور انہیں بیابان سے باغات کی إلى الجنّات، وخرجوا من الغار طرف منتقل کر دیا گیا ہے اور وہ اندھیری غار سے ١٣ المظلم إلى أنوار ربّ الكائنات رب کائنات کے انوار کی طرف نکل پڑے ہیں۔پس فإذا هم يبصرون۔وجاء وا من وہ دیکھنے لگے ہیں۔اور وہ بیابانوں سے نکل کر الموامي إلى حصن الربّ الحامی حفاظت کرنے والے رب کے قلعہ میں آگئے اور ان وأشعلت في قلوبهم مصابیح کے دلوں میں ایمان کے چراغ روشن کر دیئے گئے۔الإيمان، ودخلوا فی حمی اور وہ امن کی اس پناہ گاہ میں داخل ہو گئے کہ شیطان أمن لا تقربه ذراری الشیطان کی ذریتیں جس کے قریب بھی نہیں پھٹک سکتیں۔