الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 228
٩٩ ضمیمه حقيقة الوحي ۲۲۸ الاستفتاء لَمَّا كَتَبْتُ الْكُتُبَ عِنْدَ عُلُوّهِمُ بِبَلاغَةٍ وَّعَدُوبَةٍ وَّصَفَاءِ اور جب میں نے ان کے غلو کے وقت کتابیں لکھیں جو بلاغت، شیرینی اور وضاحت سے پر تھیں۔قَالُوا قَرَأْنَا لَيْسَ قَوْلًا جَيْدًا اَوْقَوْلُ عَارِبَةٍ مِنَ الْأَدَبَاءِ انہوں نے کہا ہم نے پڑھ لی ہیں (یہ) کوئی عمدہ بات نہیں ہیں۔یہ ادیبوں میں سے کسی ماہر عرب کا قول ہے۔عَرَبٌ أَقَامَ بِبَيْتِهِ مُتَسَبِّرًا أَمْلَى الْكِتَابَ بِبُكْرَةٍ وَمَسَاءِ ایک عرب (ادیب) ہے جو اس کے گھر میں پوشیدہ طور پر ٹھہرا ہوا ہے اور وہی صبح و شام کتاب لکھواتا ہے۔أنظُرُ إِلى أَقْوَالِهِمْ وَتَنَاقُضِ سَلَبَ الْعِنَادُ اصَابَةَ الْأَرَاءِ تو ان کی باتوں اور (ان کے) تضاد کو دیکھ۔دشمنی نے ان سے صحیح رائے سلب کر لی ہے۔طَوْرًا إِلى عَرَبِ عَزَوْهُ وَتَارَةً قَالُوا كَلَامٌ فَاسِدُ الْإِمْلَاءِ کبھی تو نے میرے کلام کو کسی عرب کی طرف منسوب کیا اور کبھی یہ کہا کہ اس کلام کی املاء خراب ہے۔هذَا مِنَ الرَّحْمَنِ يَا حِزْبَ الْعِدَا لَا فِعْلُ شَامِيٌّ وَلَا رُفَقَائِي اے دشمنوں کے گروہ! یہ تو خدائے رحمان کی طرف سے ہے نہ یہ کسی شامی کا فعل ہے نہ میرے رفیقوں کا۔أَعْلَى الْمُهَيْمِنُ شَأْنَنَا وَعُلُوْمَنَا نَبْنِى مَنَازِلَنَا عَلَى الْجَوْزَاءِ خدائے نگہبان نے ہماری شان اور علوم کو بلند کر دیا ہے اس لئے ہم اپنے گھر بُرج جوزا پر بنا رہے ہیں۔خَلُّوْا مَقَامَ الْمَوْلَوِيَّةِ بَعْدَهُ وَتَسَكَّرُوا فِي غَيْهَبِ الْخَوْقَاءِ اب اس کے بعد مولویت کا مقام چھوڑ دو اور اندھے کنوئیں کی تاریکی میں چھپ جاؤ۔قَدْ حُدِّدَتْ كَالْمُرُ هَفَاتِ قَرِيُحَتِى فَفَهِمْتُ مَالَمْ يَفْهَمُوا أَعْدَائِي میری طبیعت تلواروں کی طرح تیز کر دی گئی ہے پس میں وہ چیز سمجھا ہوں جس کو میرے دشمن نہیں سمجھے۔هذَا كِتَابِيُّ حَازَ كُلَّ بَلاغَةٍ بَهَرَ الْعُقُولَ بِنَضْرَةٍ وَّبَهَاءِ یہ میری کتاب ہے جس نے ہر قسم کی بلاغت کو اپنے اندر جمع کر لیا ہے اور اس نے تازگی اور خوبی سے عقلوں کو حیران کر دیا ہے۔اللَّهُ أَعْطَانِي حَدَائِقَ عِلْمِهِ لَوْلَا الْعِنَايَةُ كُنْتُ كَالسُّفَهَاءِ اللہ نے مجھے اپنے علم کے باغ عطا فرمائے ہیں۔اگر اللہ کی عنایت نہ ہوتی تو میں بھی بے وقوفوں کی طرح ہوتا۔