الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 227
ضمیمه حقيقة الوحي ۲۲۷ الاستفتاء مَا إِنْ أَرَى أَثْقَالَهُمْ كَجَدِيدَةٍ إِنّى طَلِيْحُ السَّيْحِ وَالأَعْبَاءِ میں ان کے بوجھوں کو کوئی نئے بوجھ نہیں پاتا میں سفروں اور بوجھوں کا عادی اور مشتاق ہوں۔نَفْسِي كَعُسُبُرَةٍ فَأَحْنِقَ صُلْبُهَا مِنْ حَمْلِ إِبْدَاءِ الْوَرَى وَجَفَاءِ سے۔میرا نفس اونٹنی کی طرح ہے سو اس کی پشت لاغر کر دی گئی ہے مخلوق کے ظلم و ایذا اٹھانے هذَا وَرَبِّ الصَّادِقِينَ لَا جُتَنِى نِعَمَ الْجَنَى مِنْ نَّخْلَةِ الأَ لَاءِ اس بات کو پلے باندھ لے۔اور بچوں کے رب کی قسم ہے کہ میں نعمتوں کی کھجور سے اچھے میوے چلتا ہوں۔إِنَّ اللّنَامَ يُحَقِّرُوْنَ وَذَمُّهُمُ مَازَادَنِي إِلَّا مَقَامَ سَنَاءِ کمینے لوگ تو میری تحقیر کرتے ہیں اور ان کی مذمت مجھے صرف رفعت کے مقام میں ہی بڑھاتی ہے۔زَمَعُ الأَنَاسِ يُحَمُلِقُونَ كَتَعْلَبِ يُؤْذُونَنِي بِتَحَوُّبٍ وَّمُوَاءِ رذیل لوگ لومڑی کی طرح مجھے گھورتے ہیں اور مجھے لومڑی اور بکی کی آواز نکال کر دکھ دیتے ہیں۔وَاللَّهِ لَيْسَ طَرِيقُهُمْ نَهْجَ الْهُدَى بَلْ مُنْيَةٌ نَّشَأَتْ مِنَ الْأَهْوَاءِ اللہ کی قسم! ان کا طریق ہدایت کا طریق نہیں بلکہ ایک ایسی آرزو ہے جو حرص و ہوا سے پیدا ہوئی ہے۔نتُ عَنْ هَذَيَانِهِمْ بِتَصَامُمٍ وَحَسِبْتُ أَنَّ الشَّرَّ تَحْتَ مِرَاءِ میں نے ان کے ہذیان سے بہرہ بن کر اعراض کیا اور میں نے جان لیا کہ بحث مباحثہ کے نیچے شر ( مخفی ) ہے۔إِنَّا صَبَرُنَا عِنْدَ إِبْدَاءِ الْعِدَا فَعَلُوا كَمِثْلِ الدُّحْ مِنْ إِغْضَائِي ہم نے دشمنوں کی ایذارسانی کے وقت صبر کیا تو میری چشم پوشی کی وجہ سے انہوں نے دھوئیں کی طرح بلندی کا اظہار کیا۔مَا بَقِيَ فِيهِمُ عِفَّةٌ وَّزَهَادَةٌ لَا ذَرَّةٌ مِّنْ عِيْشَةٍ حَشَنَاءِ ہے۔ان میں کوئی عفت اور پرہیز گاری باقی نہیں رہی اور نہ ہی مجاہدانہ زندگی کا کوئی ذرہ باقی مَالُوا إِلَى الدُّنْيَا الدَّنِيَّةِ مِنْ هَوَى فَرُّوا مِنَ الْبَأْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ وہ حرص و ہوا کی وجہ سے حقیر دنیا کی طرف مائل ہو گئے ہیں اور تکلیفوں اور سختیوں سے بھاگ نکلے ہیں۔صَالُوا مِنَ الْاَوْبَاشِ حِزْبَ اَرَازِلِ فَكَأَنَّهُمْ كَالْخَشْي لِلِاحْـمَـاءِ اوباشوں میں سے کمینوں کے گروہ نے حملہ کیا گویا کہ وہ اوپلوں کی طرح ہیں جو حرارت حاصل کرنے کے لئے ہوتے ہیں ۹۸