الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 224
ضمیمه حقيقة الوحي ۲۲۴ الاستفتاء إِنَّ الْعَوَاقِبَ لِلَّذِي هُوَ صَالِحٌ وَالْكَرَّةُ الْأُولَى لِأَهْلِ جَفَاءِ ہے۔لڑائی کا انجام نیکوکار کے حق میں ہی نکلتا ہے البتہ پہلا حملہ اہلِ جفا کا ہوتا شَهِدَتْ عَلَيْهِ خَصِيْمُ سُنَّةُ رَبِّنَا فِي الْأَنْبِيَاءِ وَزُمْرَةِ الصُّلَحَاءِ ، مخاصم ! اسی امر پر ہمارے رب کی سنت گواہ ہے جو انبیاء اور صلحاء کے گروہ میں (جاری) ہے۔(۹۵) من بِالتَّغَيُّطِ وَاللَّظى يَا حَاسِدِي إِنَّا نَمُوتُ بِعِزَّةٍ قَعُسَاءِ اے میرے حاسد! تو غضب اور آگ کی لپٹ سے مرجا، ہم تو قائم و دائم عزت کے ساتھ مریں گے۔إِنَّا نَرى كُلَّ الْعُلَى مِنْ رَّبِّنَا وَالْخَلُقُ يَأْتِينَا لِبَغْيِ ضِيَاءِ ہم تو یہی پاتے ہیں کہ تمام بلندیاں ہمارے رب سے ہی ملتی ہیں اور مخلوق روشنی کی طلب میں ہمارے پاس آتی ہے۔هُمْ يَذْكُرُونَكَ لَاعِنِيْنَ وَذِكْرُنَا فِي الصَّالِحَاتِ يُعَدُّ بَعْدَ فَنَاءِ (اے حاسد ) لوگ تیرا ذ کر تو لعنت سے کریں گے اور نیک کاموں کے بارے میں ہمارا ذ کرفنا کے بعد بھی ہوتا رہے گا۔هَلْ تَهْدِمَنَّ الْقَصْرَ قَصْرَ الهَنَا هَلْ تُحْرِقَنْ مَّا صَنَعَهُ بَنَّائِي کیا تو اس محل کو گرا دے گا جو ہمارے معبود کا حل ہے؟ کیا تو اس چیز کو جلا ڈالے گا جسے میرے معمار (اللہ تعالیٰ) نے بنایا ہے؟ يَرْجُونَ عَشْرَةَ جَدْنَا حُسَدَاتُنَا وَنَذُوقَ نَعْمَاءًا عَلَى نَعْمَاءِ ہمارے حاسد چاہتے ہیں کہ ہمارا نصیب جاتا رہے حالانکہ ہم نعمت پر نعمت چکھ رہے ہیں۔لَا تَحْسَبَنُ أَمْرِى كَامُرِ غُمَّةٍ جَاءَتْ بِكَ الْآيَاتُ مِثْلَ ذُكَـاءِ میرے کام کو مشتبہ کام کی طرح نہ جان۔تیرے پاس تو سورج کی طرح روشن نشان آ چکے ہیں۔جَاءَتْ خِيَارُ النَّاسِ شَوْقًا بَعْدَمَا شَمُوا رِيَاحَ الْمِسْكِ مِنْ تِلْقَائِى نیک آدمی میرے پاس شوق سے آئے ہیں بعد اس کے کہ میری جانب سے انہوں نے کستوری کی خوشبو سونگھی۔طَارُوا إِلَيَّ بِالْفَةٍ وَّ إِرَادَةٍ كَالطَّيْرِاذْ يَأْوِى إِلَى الدَّفْوَاءِ وہ میری طرف الفت اور ارادت سے پرواز کر کے آئے اس پرندے کی طرح جو بڑے درخت پر پناہ لیتا ہے۔لَفَظَتُ إِلَيَّ بِلادُنَا اَكْبَادَهَا مَابَقِيَ إِلَّا فَضْلَةُ الْفُضَلَاءِ ہمارے ملک نے ہماری طرف اپنے جگر گوشوں کو پھینک دیا ہے اور اب فاضلوں میں سے صرف بچے کھچے ہی باقی رہ گئے ہیں۔