الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 225
ضمیمه حقيقة الوحي ۲۲۵ الاستفتاء اَوْ مِنْ رِجَالِ اللَّهِ أُخْفِيَ سِرُّهُمْ يَأْتُونَنِي مِنْ بَعْدُ كَالشُّهَدَاءِ یا وہ مردانِ خدا باقی رہ گئے ہیں جن کے حالات پوشیدہ ہیں اور وہ ان کے بعد میرے پاس گواہوں کی طرح آئیں گے۔ظَهَرَتْ مِنَ الرَّحْمَنِ ايَاتُ الْهُدَى سَجَدَتْ لَهَا أُمَمٌ مِّنَ الْعُرَفَاءِ خدائے رحمان کی طرف سے ہدایت کے نشان ظاہر ہو گئے اور ان نشانوں کی وجہ سے عارفوں کے گروہ (خدا کے حضور سجدہ ریز ہو گئے۔أَمَّا اللّنَامُ فَيُنْكِرُونَ شَقَاوَةً لَا يَهْتَدُونَ بِهَذِهِ الْأَصْوَاءِ مگر بد بخت لوگ اپنی بدبختی کی وجہ سے انکار کر رہے ہیں وہ ان روشنیوں سے ہدایت نہیں پا رہے۔هُمْ يَأْكُلُونَ الْجِيْفَ مِثْلَ كِلَابِنَا هُمْ يَشْرَهُونَ كَأَنْسُرِ الصَّحْرَاءِ وہ ہمارے کتوں کی طرح مردار کھا رہے ہیں وہ صحرا کے گدھوں کی طرح (مردار کے) حریص ہیں۔خَمَّوا وَلَا تَخْشَى الرِّجَالُ شَجَاعَةً فِي نَائِبَاتِ الدَّهْرِ وَالْهَيْجَاءِ انہوں نے ( مجھے ) ڈرایا حالانکہ بہادر مرد شجاعت کی وجہ سے زمانے کے حوادث اور لڑائی میں ڈرا نہیں کرتے۔لَمَّا رَأَيْتُ كَمَالَ لُطْفِ مُهَيْمِنِى غَابَ الْبَلَاءُ فَمَا أُحِسُّ بَلَائِي جب میں نے اپنے نگہبان خدا کی کمال مہربانی کو دیکھا تو مصیبت جاتی رہی سو میں اپنی کوئی مصیبت محسوس نہیں کرتا۔ـاخَابَ مِثْلِى مُؤْمِنٌ بَلْ خَصُمُنَا قَدْ خَابَ بِالتَّكْفِيرِ وَالْإِفْتَاءِ میرے جیسا مومن نامراد نہیں رہا بلکہ ہمارا دشمن تکفیر اور فتویٰ بازی میں نامراد ہو گیا۔اَلْعُمُرُ يَبْدُوا نَاجِذَيْهِ تَغَيُّظًا أَنظُرُ إِلَى ذِى لَوْثَةٍ عَجُمَاءِ جاہل آدمی غصے سے اپنے دانت دکھاتا ہے (تو) اس احمق چوپائے کی طرف نگاہ کر۔قَدْ اسْخَطَ الْمَوْلَى لِيُرْضِيَ غَيْرَهُ وَاللَّـهُ كَانَ أَحَقَّ لِلِارُضَاءِ اس نے اپنے مولیٰ کو ناراض کر دیا تا کہ اس کے غیر کو خوش کرے اور خدا کا راضی کیا جانا زیادہ سزاوار اور مناسب ہے۔كَسَّرُتُ ظَرُفَ عُلُومِهِمْ كَزُجَاجَةٍ فَتَطَايَرُوا كَتَطَابُرِ الْوَقْعَاءِ میں نے ان کے علوم کے برتن کو شیشے کی طرح توڑ دیا پس وہ غبار کے اڑنے کی طرح اڑ گئے۔قَدْ كَفَرُوا مَنْ قَالَ إِنِّى مُسْلِمٌ لِمَقَالَةِ ابْنِ بَطَالَةٍ وَّ عُوَاءِ انہوں نے اس شخص کو کا فرقرار دیا جو کہتا ہے کہ میں مسلمان ہوں۔ان کی یہ بات ( شیخ) بٹالوی کے قول اور اس کے چیخنے چلانے کی وجہ سے ہے۔ایڈیشن اول میں یہاں لفظ یبدو لکھا ہے جو سہو کتابت معلوم ہوتا ہے۔درست يُبدِی ہے۔(ناشر)