الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 218 of 242

الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 218

ضمیمه حقيقة الوحي ۲۱۸ الاستفتاء إِنَّا عُمِسْنَا مِنْ عِنَايَةِ رَبِّنَا فِي النُّورِ بَعُدَ تَمَرُّقِ الْأَهْوَاءِ ہوا و ہوس کے پارہ پارہ ہو جانے کے بعد ہم اپنے رب کی عنایت سے نور میں غوطہ زن کئے گئے ہیں۔إِنَّ الْمَحَبَّةَ حُمِّرَتْ فِي مُهْجَتِي وَاَرَى الْوَدَادَ يَلُوحُ فِي أَهْبَائِي یقیناً محبت میری روح میں خمیر کر دی گئی ہے اور میں دیکھتا ہوں کہ محبت میرے تمام ذرات وجود میں چمک رہی۔إِنِّي شَرِبْتُ كُنُوسَ مَوْتٍ لِّلْهُدَى فَوَجَدْتُ بَعْدَ الْمَوْتِ عَيْنَ بَقَ میں نے ہدایت کی خاطر موت کے پیالے پیئے۔پس موت کے بعد میں نے بقا کا چشمہ پا لیا۔(٩٠) إِنِّي أُذِبتُ مِنَ الْوِدَادِ وَنَارِهِ فَاَرَى الْغُرُوبَ يَسِيلُ مِنْ اهْرَائِي میں محبت اور اس کی آگ سے پگھلایا گیا ہوں اور میں دیکھ رہا ہوں کہ میرے آنسو گداز ہو جانے کی وجہ سے رواں ہیں۔الدَّمُعُ يَجْرِى كَالسُّيُولِ صَبَابَةً وَالْقَلْبُ يُشْوَى مِنْ خَيَالِ لِقَاءِ عشق کی وجہ سے آنسو سیلابوں کی طرح رواں ہیں اور دل ملاقات کے خیال سے پریاں ہے۔وَارَى الْوِدَادَ أَنَارَ بَاطِنَ بَاطِنِي وَأَرَى التَّعَشُقَ لَاحَ فِي سِيمَائِي اور میں دیکھتا ہوں کہ محبت نے میرے باطن کی گہرائی کو روشن کر دیا ہے اور میں دیکھتا ہوں کہ عشق میرے چہرے پر نمودار ہے۔الْخَلْقُ يَبْغُونَ اللَّذَاذَةَ فِي الْهَوَى وَوَجَدْتُهَا فِي حُرُقَةٍ وَّ صَلَاءِ لوگ تو حرص و ہوا میں لذت تلاش کرتے ہیں اور میں نے اسے پایا ہے سوزش اور جلنے میں۔اَللَّهُ مَقْصِدُ مُهْجَتِي وَأُرِيدُهُ فِي كُلِّ رَشْحِ الْقَلَمِ وَالْإِمْلَاءِ اللہ میری جان کا مقصود ہے اور میں اسی کو چاہتا ہوں قلم کے ہر قطرہ (روشنائی) اور ہر املاء میں۔يَا أَيُّهَا النَّاسُ اشْرَبُوا مِنْ قِرُبَتِي قَدْمُلِيَّ مِنْ نُّورِ الْمُفِيُضِ سِقَائِى لوگو! میری مشک سے پیئو کیونکہ فیاض حقیقی کے نور سے میری مشک پُر کی گئی قَوْمٌ أَطَاعُونِي بِصِدْقِ طَوِيَّةٍ وَالْآخَرُونَ تَكَبَّرُوا لِغِطَاءِ ایک قوم نے میری صدق نیت سے اطاعت کی ہے اور دوسروں نے نفس کے پردے کی وجہ سے تکبر کیا ہے۔حَسَدُوا فَسَبُّوا حَاسِدِينَ وَلَمْ يَزَلْ حَسَدَتْ لِقَامٌ كُلَّ ذِي نَعْمَاءِ انہوں نے حسد کیا سوحسد کرتے ہوئے گالیاں دیں اور ایسا ہی ہوتا رہا ہے کہ کمینوں نے ہر صاحب نعمت کا حسد کیا ہے۔ہے۔